صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 475 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 475

صحيح البخارى جلده ۴۷۵ ۵۷ - کتاب فرض الخمس قَالَ قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَكُمْ هِشَامُ ابو اسامہ سے میں نے پوچھا: کیا ہشام بن عروہ نے بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن تمہیں بتایا کہ ان کے باپ سے مروی ہے۔انہوں الزُّبَيْرِ قَالَ لَمَّا وَقَفَ الزُّبَيْرُ يَوْمَ نے حضرت عبد اللہ بن زبیر سے یہ سنا کہ انہوں نے کہا: الْجَمَلِ دَعَانِي فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ جب جنگ جمل کے دن حضرت زبیر کھڑے ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا اور میں اُٹھ کر ان کے پہلو میں کھڑا يَا بُنَيَّ لَا يُقْتَلُ الْيَوْمَ إِلَّا ظَالِمٌ أَوْ ہوا۔وہ کہنے لگے بیٹا! آج ظالم یا مظلوم ہی مارا جائے مَظْلُومٌ وَإِنِّي لَا أَرَانِي إِلَّا سَأَقْتَلُ گا اور میں اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ میں آج مظلوم الْيَوْمَ مَظْلُومًا وَإِنَّ مِنْ أَكْبَرِ هَمِّي مارا جاؤں گا۔مجھے سب سے بڑی فکر جس چیز کی ہے وہ لَدَيْنِي أَفَتُرَى يُبْقِي دَيْنَنَا مِنْ مَّالِنا میرا قرضہ ہے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ ہمارا قرضہ ہماری جائیداد شَيْئًا فَقَالَ يَا بُنَيَّ بِعْ مَالَنَا فَاقْضِ دَيْنِی سے ادا ہو جائے گا ؟ انہوں نے کہا: بیٹا ہماری جائیداد وَأَوْصَى بِالقُلُثِ وَثُلُثِهِ لِبَنِيْهِ يَعْنِي فروخت کر کے میرا قرضہ ادا کر دینا اور انہوں نے تہائی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يَقُولُ ثُلُثُ مال کی وصیت کی اور ایک تہائی انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر کے بیٹوں کے لئے یعنی ۱/۶ مال کی۔الثُّلُثِ فَإِنْ فَضَلَ مِنْ مَّالِنَا فَضْلَّ بَعْدَ کہا: اگر ہمارے مال سے قرض ادا کر دینے کے بعد کچھ قَضَاءِ الدَّيْنِ فَقُلْتُهُ لِوَلَدِكَ قَالَ هِشَامٌ بچ رہے تو اس کی تہائی تم اپنی اولاد کو دینا۔ہشام کہتے وَكَانَ بَعْضُ وَلَدِ عَبْدِ اللهِ قَدْ وَازَی تھے حضرت عبداللہ بن زبیر کے بعض بیٹے حضرت زبیر بَعْضَ بَنِي الزُّبَيْرِ حُبَيْبٌ وَعَبَّادٌ وَلَهُ کے بعض بیٹوں کے ہم عمر تھے۔یعنی حبیب اور عباد يَوْمَئِذٍ تِسْعَةُ بَنِيْنَ وَتِسْعُ بَنَاتٍ قَالَ اور ان دنوں ان کے تو بیٹے تھے اور نو بیٹیاں۔حضرت عَبْدُ اللَّهِ فَجَعَلَ يُوْصِيْنِي بِدَيْنِهِ عِبداللہ نے کہا: زبیر اپنے قرضے سے متعلق مجھے وصیت کرنے لگے اور کہنے لگے: بیٹا اگر کچھ قرض ادا کرنے وَيَقُوْلُ يَا بُنَيَّ إِذْ عَجَرْتَ عَنْ شَيْءٍ سے عاجر رہو تو پھر اس کی ادائیگی میں میرے مولیٰ سے مِنْهُ فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ مَوْلَايَ قَالَ فَوَاللَّهِ مدد لینا۔حضرت عبداللہ کہتے تھے : بخدا ! میں نہیں سمجھا مَا دَرَيْتُ مَا أَرَادَ حَتَّى قُلْتُ يَا أَبَةٍ مَنْ کہ ان کی کیا مراد تھی۔آخر میں نے پوچھا: ابا! آپ کا مَّوْلَاكَ قَالَ اللهُ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا وَقَعْتُ مولی کون ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ۔حضرت عبداللہ