صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 474 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 474

صحيح البخاری جلده ۴۷۴ باب ۱۲ ۷ ۵- کتاب فرض الخمس كَيْفَ قَسَمَ النَّبِيُّ الله قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيْرَ وَمَا أَعْطَى مِنْ ذَلِكَ مِنْ نَّوَائِبِهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریضہ اور نضیر کے اموال کس طرح تقسیم کئے اور ان میں سے جو نا گہانی ضرورتوں کے لئے دیا ۳۱۲۸: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي :۳۱۲۸ عبد اللہ بن ابی الاسود نے ہم سے بیان کیا کہ الْأَسْوَدِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ معتمر نے ہمیں بتایا کہ ان کے باپ (سلیمان) سے مروی سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہے۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: (انصار میں سے ) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ حَتَّى يَقُوْلُ كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ بعض لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھجور کے درخت مخصوص کر دیتے تھے یہاں تک کہ قریظہ اور افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيْرَ فَكَانَ بَعْدَ نضیر مفتوح ہوئے تو اس کے بعد آپ نے یہ درخت انہیں واپس کر دیئے تھے۔ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ۔اطرافة: ٢٦٣٠، ٤٠٣٠، تشریح: كَيْفَ قَسَمَ النَّبِي عله قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ : بنوقریظہ اور بنو تفسیر سے حاصل شدہ اموال ر بغیر جنگ کے تھے۔اس لئے وہ اموال کے میں سے شمار ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے اپنے ذاتی اخراجات کے لئے بھی ایک حصہ مخصوص فرمایا اور دوسری ضرورتوں کے لئے بھی تقسیم کئے۔بنو نضیر کی جلا وطنی کے بعد ان کی جائیدادیں بطور مال وقف رہیں اور آپ نے حضرت ابوبکر، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت صہیب بن سنان اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم کو بھی زمینیں اور باغات دیئے۔جس پر انصار کے باغات اور اراضیات انہیں واپس کی گئیں جو انہیں گزارہ کے لئے دیئے گئے تھے۔اس تعلق میں الطبقات الکبری لا بن سعد، غزوة رسول الله له بنی النضیر دیکھئے۔بَاب ۱۳ : بَرَكَةُ الْغَازِي فِي مَالِهِ حَيًّا وَ مَيْتًا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ وَلَاةِ الْأَمْرِ ١٣: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء کی معیت میں غازی کے مال کو جو برکت دی گئی اس وقت بھی جبکہ وہ زندہ تھا اور اس وقت بھی جبکہ وہ فوت ہوا ٣١٢٩: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۳۱۲۹: اسحاق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا، کہا: