صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 474
صحيح البخاری جلده ۴۷۴ ۵۷ - کتاب فرض الخمس باب ۱۲ كَيْفَ قَسَمَ النَّبِيُّ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيْرَ وَمَا أَعْطَى مِنْ ذَلِكَ مِنْ نَّوَائِبِهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریظہ اور نضیر کے اموال کس طرح تقسیم کئے اور ان میں سے جو نا گہانی ضرورتوں کے لئے دیا ۳۱۲۸: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي ۳۱۲۸ : عبد اللہ بن ابی الاسود نے ہم سے بیان کیا کہ الْأَسْوَدِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ معتمر نے ہمیں بتایا کہ ان کے باپ (سلیمان) سے مروی سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک يَقُولُ كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: (انصار میں سے ) بعض لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھجور کے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ حَتَّى درخت مخصوص کر دیتے تھے یہاں تک کہ قریظہ اور افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيْرَ فَكَانَ بَعْدَ نظیر مفتوح ہوئے تو اس کے بعد آب بعد آپ نے یہ درخت ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ۔ اطرافه: ٢٦٣٠، 4030، ٤١٢٠۔ له انہیں واپس کر دیئے تھے۔ تشريح : كَيْفَ قَسَمَ النَّبِي القُرَيْظَةَ وَالنَّصِيرَ : بوتقرینہ اور بونیر سے حاصل شدہ اموال بغیر جنگ کے تھے۔ اس لئے وہ اموال کے میں سے شمار ہوئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے اپنے ذاتی اخراجات کے لئے بھی ایک حصہ مخصوص فرمایا اور دوسری ضرورتوں کے لئے بھی تقسیم کئے ۔ بنو نضیر کی جلا وطنی کے بعد ان کی جائیدادیں بطور مال وقف رہیں اور آپ نے حضرت ابوبکر، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت صہیب بن سنان اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم کو بھی زمینیں اور باغات دیئے۔ جس پر انصار کے باغات اور اراضیات انہیں واپس کی گئیں جو انہیں گزارہ کے لئے دیئے گئے تھے۔ اس تعلق میں الطبقات الکبری لابن سعد، غزوة رسول الله له بنی النضیر دیکھئے۔ باب ۱۳ : بَرَكَةُ الْغَازِي فِي مَالِهِ حَيًّا وَمَيِّنَا مَعَ النَّبِيِّ وَوُلَاةِ الْأَمْرِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء کی معیت میں غازی کے مال کو جو برکت دی گئی اس وقت بھی جبکہ وہ زندہ تھا اور اس وقت بھی جبکہ وہ فوت ہوا ۳۱۲۹ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۳۱۲۹: اسحاق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا، کہا: