صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 472 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 472

صحيح البخاری جلده ۴۷۲ ۵۷ - کتاب فرض الخمس قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا عمرو بن مرہ) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابو وائل سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابوموسیٰ اشعری قَالَ قَالَ أَعْرَابِيِّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رَضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا، کہا کہ ایک اعرابی (دیہاتی) وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کوئی شخص غنیمت کے يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ لئے لڑتا ہے اور کوئی شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اس کی شہرت ہو اور کوئی اس لئے لڑتا ہے کہ اس کا رتبہ جنگجوئی مَنْ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَقَالَ مَنْ قَاتَلَ معلوم ہو۔ ان میں سے کون اللہ کی راہ میں لڑنے والا لِتَكُوْنَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ ہے؟ تو آپ نے فرمایا: جو اس لئے لڑے کہ اللہ کی فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۔ اطرافه ۱۲۳، ۲۸۱۰، ٧٤٥٨۔ بات کا بول بالا ہو تو وہ اللہ کی راہ میں مجاہد ہے۔ تشريح : مَنْ قَاتَلَ لِلْمَغْنَمِ هَلْ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ : استفتاء کا جواب حذف ہے۔ اس کا جواب قلبی حالات سے تعلق رکھتا ہے۔ نیت کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ بعض فقہاء کی رائے میں دونوں باتیں جمع : جمع ہو سکتی ہیں، اعلاء کلمۃ اللہ اور غنیمت بھی۔ مگر غنیمت کا خیال نیت جہاد کی قدر و قیمت کم کرنے کا موجب ہوگا۔ امام بخاری اس نقطہ نظر کی تائید میں معلوم نہیں ہوتے ۔ امام ابن حجر نے بھی لکھا ہے کہ ان کے نزدیک ثواب کا کم و بیش ہونا ایک نسبتی امر ہے۔ اس باب کا مضمون كتاب الجهاد باب ۱۵ میں گزر چکا ہے۔ باب ۱۱ قِسْمَةُ الْإِمَامِ مَا يَقْدَمُ عَلَيْهِ وَيَخْبَأُ لِمَنْ لَّمْ يَحْضُرْهُ أَوْ غَابَ عَنْهُ امام کے پاس جو ( تحفہ ) آئے اس کا اسے بانٹ دینا اور وہ اس کے لئے علیحدہ طور پر محفوظ رکھے جو موجود نہ ہو یا کہیں غائب ہو ۳۱۲۷ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ۳۱۲۷ : عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا کہ ایوب (سختیانی ) سے عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ مروی ہے۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ریشمی قبائیں ؟ بائیں جنہیں سونے