صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 471
صحيح البخاری جلده ۵۷ - کتاب فرض الخمس مَلِكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ سے نکاح مراد ہے اور بنی بِهَا سے مراد ہے کہ نکاح کر کے گھر لایا اور مباشرت کی۔مذکورہ بالا شرائط عائد کرانے سے مقصود یہ تھا کہ فارغ البال لوگ جنگ کے لئے نکلیں۔یہ سوال کہ روایت نمبر ۳۱۲۴ میں کس نبی کا ذکر ہے؟ بعض شارحین نے یوشع بن نون اور بعض نے حضرت داؤد علیہما السلام کا ذکر کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۲۶۵) (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحه ۴۲) باب ۹ : الْغَنِيْمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ غنیمت اس کے لئے ہے جو جنگ میں شریک ہو ٣١٢٥: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ :۳۱۲۵ صدقہ (بن فضل) نے ہم سے بیان کیا کہ الرَّحْمَنِ عَنْ مَّالِكِ عَنْ زَيْدِ بْن أَسْلَمَ عبد الرحمن بن مہدی) نے ہمیں خبر دی۔مالک سے عَنْ أَبِيْهِ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مروی ہے۔انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے اپنے لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِيْنَ مَا فَتَحْتُ قَرْيَةً باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر پچھلے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جو بستی میں فتح کرتا اسے فتح کرنے والوں میں تقسیم کر دیتا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر کو تقسیم فرمایا۔إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ أَهْلِهَا كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ۔اطرافه ٢٣٣٤، ٤٢٣٥ ٤٢٣٦۔تشریح: الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ: عنوانِ باب کے الفاظ عبدالرزاق کی روایت سے ماخوذ ہیں۔طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے حضرت عمار بن یا سٹہ کو لکھا کہ نقیمت کا مستحق وہی ہوگا جو لڑائی میں شریک ہوئے اس روایت کی سند صحیح ہے اور مسئلہ معنونہ مسلمہ فقہاء ہے۔عنوانِ باب کے تحت مذکورہ روایت میں ایک زائد بات یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے مفتوحہ اراضی کو دوسروں کے لئے بھی محفوظ رکھا جن کا خراج بیت المال میں داخل ہوتا تھا، جیسا کہ کتاب الحرث والمزارعة، باب ۱۴ میں گذر چکا ہے۔بَاب ۱۰ : مَنْ قَاتَلَ لِلْمَغْنَم هَلْ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ جو غنیمت کی خاطر لڑا، کیا اس کے اجر میں سے کچھ کم ہو جائے گا ؟ ٣١٢٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۳۱۲۶ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو نے ہمیں بتایا ( کہا) کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ مصنف عبد الرزاق، كتاب الجهاد، باب لمن الغنيمة، جزء ۵ صفحه ۳۰۲)