صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 470 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 470

صحيح البخاری جلده - ۵۷ - کتاب فرض الخمس سے متعلق کہا گیا کہ رُدُوھا سے مراد یہ ہے کہ سورج کو جو ڈوب چکا تھا، لوٹانے کا حکم دیا تاوہ نماز عصر پڑھ سکیں جو گھوڑ دوڑ میں مشغول ہونے کی وجہ سے نہ پڑھ سکے تھے اور انہیں گھوڑوں پر غصہ آیا کہ ان کی وجہ سے نماز ضائع ہو گئی ہے اور اس غصہ میں ان کی ٹانگیں تلوار سے کاٹ دیں۔یہودی علماء نے سیدھے سادے معانی کو اپنے کسی قصہ سے تطبیق دینے کے شوق میں یا شرارت سے بگاڑ دیا۔حضرت ابن عباس سے کعب الاحبار کی یہ تفسیر سن کر حضرت علی کو کہنا پڑا: كَذِبَ كَعْبٌ وَإِنَّمَا أَرَادَ سُلَيْمَانُ جِهَادًا - کعب نے غلط کہا ہے یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کے جہاد کا ذکر ہے۔یہ قصہ نقل کرنے کے بعد امام ابن حجر لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کے مذکورہ بالا قول پر ایک جماعت نے خاموشی اختیار کی ہے اور اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ یہ قول نہ حضرت ابن عباس سے ثابت ہے اور نہ ان کے سوا کسی اور سے، بلکہ جمہور اہل علم سے جو تفسیر ثابت ہے وہ یہ ہے کہ رُدُّوهَا میں ضمیر (ها) سورج کی طرف نہیں بلکہ گھوڑوں کی طرف ہے جو معائنہ کی غرض سے آپ کے سامنے پیش کئے گئے تھے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۲۶۶ ۲۶۷) فَطَفِقَ مَسُحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ کے معنی یہ ہیں کہ وہ خوش ہو کر گھوڑوں کی گردنوں اور ٹانگوں پر تھپکی دینے لگے اور اخبيْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي کے معنی ہیں مجھے مال و دولت سے محبت اس وجہ سے ہے کہ یہ مجھے میرے رب کو یاد دلانے کا باعث ہیں۔تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ کا یہ مطلب ہے کہ گھوڑے دوڑتے ہوئے نظر سے اوجھل ہو گئے نہ کہ سورج۔فرمایا : رُدُّوهَا - انہیں لوٹاؤ اور جب وہ لوٹے تو انہیں تھپکیاں دیں۔ان آیات میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے جہاد فی سبیل اللہ سے تعلق و اہتمام کا ذکر ہے۔چہارم : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کا قصہ بیان کر کے صرف یہ فرمایا کہ غنیمت ان کے لئے حرام تھی مگر ہمارے لئے جائز قرار دی گئی ہے۔کفار نے مسلمانوں کو ہتھیار اُٹھانے پر مجبور کر دیا تھا۔کفار مسلمانوں کی کمزوری اور بے بسی دیکھ کر ان پر حملہ آور ہوئے اور ان کے مالی و جانی نقصان کا سبب بنے۔اس لئے مسلمانوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے نقصان کی تلافی ان کے مالوں سے کریں۔دنیا کی عام قومیں قطع نظر اس سے کہ وہ مظلوم ہوں یا ظالم ، غالب ہونے پر تاوان جنگ مغلوب قوم سے وصول کرنے کو اپنا جائز حق سمجھتی ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پہلے یہ حکم تھا کہ اموال غنیمت جلا دیے جائیں۔چنانچہ عہد نامہ قدیم کی کتاب گنتی میں ہے: ” شریعت کا وہ آئین جس کا حکم خداوند نے موسیٰ کو دیا یہی ہے کہ سونا اور چاندی اور پیتیل اور لوہا اور رانگا اور سیسہ غرض جو کچھ آگ میں ٹھہر سکے، وہ سب تم آگ میں ڈالنا۔۔۔اور جو کچھ آگ میں نہ ٹھہر سکے ، اسے تم پانی میں ڈالنا ( دیکھئے گنتی باب ۳۱ آیت ۲۱ تا ۲۳) اور پھر بعد میں اموال غنیمت سے فائدہ اُٹھانے کی اجازت دی گئی۔(دیکھئے گنتی باب ۳۱ آیت ۲۵ تا ۲۷) پنجم: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ قصے کے باقی ماندہ حصے کو نظر انداز فرمایا ہے۔البتہ بعض شارحین نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ خائن اس وقت تک رہن قید و بند رہا جب تک کہ خیانت کا مال اس سے واپس نہیں لے لیا گیا۔خَلِفَات جمع ہے خلفة کی یعنی حاملہ اونٹنی یا بکری جو جنے والی ہو۔بضع کے معنی ہیں اندام نہانی اور