صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 469 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 469

صحیح البخاری جلده ۴۶۹ ۵۷- کتاب فرض الخمس الفاظ أُحِلَّتْ لَكُمُ سے ظاہر ہے کہ غنائم صرف مجاہدین ہی کے لئے نہیں بلکہ قوم کے باقی افراد کے لئے بھی ہیں اور اس کے لئے خمس ( پانچواں ) حصہ غنیمت کی اجازت دی گئی ہے اور اگر یہ خمس صرف ایک فرد یا ایک خاندان کے لئے مخصوص سمجھا جائے تو معاشرے کے محتاج افراد محروم رہیں گے اور أُحِلَّتْ لَكُمُ الْغَنَائِمُ کا منشاء پورا نہ ہوگا ۔ قَاعِدِین ( یعنی معذوروں) کا طبقہ بھی اپنی اپنی جگہ اور بساط کے مطابق شریک جہاد ہی تھا۔ کیونکہ وہ دعاؤں میں لگا رہا اور اس نے مجاہدین کے بیوی بچوں کا خیال رکھا اور خالی شدہ شہر کی حفاظت میں مدد دی۔ اس لئے جنگ میں شریک نہ ہو سکنے کی وجہ سے معذور لوگ فتح و ظفر کے ثمرات سے محروم نہیں رکھے گئے ۔ بلکہ ان کے لئے بھی ایک حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تعلق ہے اس باب کا پہلے باب سے اور اس میں چھ روایتیں درج ہیں ۔ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفِقُنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللهِ : اللہ تعالیٰ کا وعدہ غنائم ایسا حتی امر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر صحابہ کرام کو یقین دلایا کہ کسری ایران اور قیصر روم دونوں تباہ ہوں گے اور مسلمان ان کے خزانوں کے وارث بنیں گے اور وہ انہیں فی سبیل الله خرچ کریں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کسری اور قیصر کے دور کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گیا۔ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَاتِهِ : پانچویں روایت میں حدیث نبوی کے الفاظ جو مروی ہیں ان میں اس امر کی صراحت ہے کہ مجاہدین اسلام اموال غنیمت کے لالچ سے خالی الذہن ہوں گے۔ ان کی طرف سے جہاد کی مہم خالصہ رضائے الہی کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے کی غرض سے جاری کی جائے گی اور اموال غنیمت کا حصول اور ان سے فائدہ اٹھانے کی اجازت کا تعلق فضل ربانی اور اِذنِ الہی سے ہے۔ اسی وجہ سے ان کا نام انقال یعنی بخششیں رکھا گیا۔ غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ۔۔۔ فَقَالَ لِلشَّمْسِ ۔۔۔۔۔۔ چھٹی روایت کا مفہوم سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل باتیں مد نظر رکھنا ضروری ہیں۔ اول بنی اسرائیل کو اموال غنیمت جلا دینے کا حکم تھا۔ دوم یوشع بن نون اور داؤد علیہما السلام سے متعلق اسرائیلی قصص میں ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں سورج کے رُکنے کا ذکر پایا جاتا ہے۔ قدیم اسلوب بیان کا مفہوم صرف اسی قدر ہے کہ انبیاء کی دعا سے غیر معمولی اسباب پیدا ہوئے جن کی وجہ سے سورج غروب ہونے سے قبل انہیں دشمن پر فتح حاصل ہوگئی۔ اس سے سورج کا رک جانا مراد نہیں۔ سوم یہودی علماء کا یہ طریق تھا کہ قرآن مجید کی کسی آیت میں لفظی مشابہت دیکھتے تو اسے اپنے قصوں پر چسپاں کر دیتے اور اس طرح مسلمانوں کو غلط نہی میں ڈالنے کی کوشش کرتے۔ چنانچہ آیات اِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّفِيْتُ الْجِيَّادُ ، فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ رُدُّوهَا عَلَيَّ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ (ص: ۳۲ تا ۳۴) ا ترجمه از حضرت خلیفة المسیح الرابع : { جب شام کے وقت اس کے سامنے تیز رو گھوڑے لائے گئے تو اس نے کہا یقیناً میں مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے کرتا ہوں یہاں تک کہ وہ اوٹ میں چلے گئے۔ (اس نے کہا: ) انہیں دوبارہ میرے سامنے لاؤ۔ پس وہ ( ان کی ) پنڈلیوں اور گردنوں پر ( پیار سے ہاتھ پھیرنے لگا۔ }