صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 28
صحیح البخاری جلده ۲۸ ۵۳ - كتاب الصلح ثَلَاثِيْنَ وَسْقًا دَيْنًا۔ آپ ہنس پڑے اور یہ بھی کہا: میرے باپ نے اپنے ذمہ میں وسق قرضہ چھوڑا تھا۔ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ وَهْبِ عَنْ اور ابن اسحاق نے وہب سے، وہب نے حضرت جَابِرٍ صَلَاةَ الظُّهْرِ۔ جابر سے روایت کرتے ہوئے ظہر کی نماز کا ذکر کیا۔ اطرافه: ۲۱۲۷، ۲۳۹۵، ٢٣٩٦، ٢٤٠٥، ۲٦٠١، ۲۷۸۱، ٣٥٨٠، ٤٠٥٣، ٦٢٥٠۔ تشريح : الصُّلْحُ بَيْنَ الْغُرَمَاءِ وَأَصْحَابِ الْمِيْرَاثِ وَالْمُجَازَفَةُ فِي ذَلِكَ: الْمُجَازَفَةُ کے معنی ہیں اندازہ سے ایک دوسرے کو معاوضہ دینا دلانا ؛ جہاں صحیح اندازہ ممکن نہ ہو ۔ اور تُوِي الْمَالُ کے معنی ہیں مال ضائع ہو گیا ۔ اسی طرح جب تُوِي الرَّجُلُ کہیں تو معنی ہوں گے خسر - آدمی خسارے میں رہا۔ عنوان باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کا حوالہ دے کر فقہاء کے اختلاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مسئلہ معنونہ کے بارے میں ابراہیم نخعی کا یہ فتوی ہے کہ قرضوں کی تقسیم کے بعد اگر مقروض مر جائے اور کوئی شریک اُس سے اپنا قرضہ وصول نہ کر سکے تو ضائع شدہ مال باقی شریک قرض خواہوں سے بحصہ رسدی دلایا جائے گا۔ امام مالک اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہا کا بھی یہی فتوی ہے۔ سحنون رحمۃ اللہ علیہ نے اس تعلق میں یہ فتوی بھی دیا ہے کہ اگر قرض خواہ شرکاء میں سے کسی شریک نے مقرف نے مقروض سے اپنا قرضہ سامان یا جائیداد کی شکل میں وصول کیا ہو ۔ دوسرے نے نقد لینے کا فیصلہ کیا ہو اور پھر کسی وجہ سے نقد نہ ملا ہو تو وہ سامان لینے والے شریک کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اُس سے آدھا سامان لے کر دونوں کا باقی واجب الادا قرضہ مقروض کے ذمہ رہے گا۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۲۸۸) عنوان باب سے ظاہر ہے کہ اصل مقصود مصالحت ہے جس طرح بھی ممکن ہو۔ روایت مندرجہ بالا کے لئے كتاب الإستقراض باب ۸، ۹ مع تشریح بھی دیکھئے۔ عجوة عمدہ قسم کی کھجور ہے اور لون عام قسم کی ، جسے دل بھی کہتے ہیں۔ لون جمع ہے لینے کی ؛ اس کی جمع الوَان بھی ہے اور مختلف قسم کی ملی جلی کھجوروں کو بھی لون کہتے ہیں۔ وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۸۲) (لسان العرب وسق)