صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 28 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 28

صحيح البخاری جلده ثَلَاثِيْنَ وَسْقًا دَيْنًا۔۲۸ ۵۳ - کتاب الصلح آپ ہنس پڑے اور یہ بھی کہا: میرے باپ نے اپنے ذمہ تمہیں وسق قرضہ چھوڑا تھا۔وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ وَهْبٍ عَنْ اور ابن اسحاق نے وہب سے، وہب نے حضرت جَابِرٍ صَلَاةَ الظُّهْرِ جاب سے روایت کرتے ہوئے ظہر کی نماز کا ذکر کیا۔اطرافه ۲۱۲۷، ۲۳۹۵، ٢٣٩٦ ، ۲٤٠٥ ، ۲۰۰۱، ۲۷۸۱، ٣٥۸۰ ٤٠٥٣، ٦٢٥٠۔تشریح : الصُّلْحُ بَيْنَ الْغُرَمَاءِ وَأَصْحَابِ الْمِيْرَاتِ وَالْمُجَازَفَةُ فِي ذَلِكَ: الْمُجَازَفَةُ کے معنی ہیں اندازہ سے ایک دوسرے کو معاوضہ دینا دلانا، جہاں صحیح اندازہ ممکن نہ ہو۔اور تُوىَ الْمَالُ کے معنی ہیں مال ضائع ہو گیا۔اسی طرح جب تُوِي الرَّجُلُ کہیں تو معنی ہوں گے خَسِر - آدمی خسارے میں رہا۔عنوانِ باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کا حوالہ دے کر فقہاء کے اختلاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔مسئلہ معنونہ کے بارے میں ابراہیم نخعی کا یہ فتویٰ ہے کہ قرضوں کی تقسیم کے بعد اگر مقروض مر جائے اور کوئی شریک اُس سے اپنا قرضہ وصول نہ کر سکے تو ضائع شدہ مال باقی شریک قرض خواہوں سے بحصہ رسدی دلایا جائے گا۔امام مالک اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہا کا بھی یہی فتویٰ ہے۔سحنون رحمتہ اللہ علیہ نے اس تعلق میں یہ فتویٰ بھی دیا ہے کہ اگر قرضخواہ شرکاء میں سے کسی شریک نے مقروض سے اپنا قرضہ سامان یا جائیداد کی شکل میں وصول کیا ہو۔دوسرے نے نقد لینے کا فیصلہ کیا ہو اور پھر کسی وجہ سے نقد نہ ملا ہو تو وہ سامان لینے والے شریک کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اُس سے آدھا سامان لے کر دونوں کا باقی واجب الادا قرضہ مقروض کے ذمہ رہے گا۔(عمدۃ القاری جز ۱۳ صفحہ ۲۸۸) عنوان باب سے ظاہر ہے کہ اصل مقصود مصالحت ہے جس طرح بھی ممکن ہو۔روایت مندرجہ بالا کے لئے كتاب الإستقراض باب ۹۸ مع تشریح بھی دیکھئے۔عجوة عمدہ قسم کی کھجور ہے اور لون عام قسم کی، جسے وقل بھی کہتے ہیں۔کون جمع ہے لِینَةٌ کی؛ اس کی جمع الوَان بھی ہے اور مختلف قسم کی ملی جلی کھجوروں کو بھی کون کہتے ہیں۔وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه۳۸۲) (لسان العرب-وسق)