صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 27
صحيح البخاری جلده ۲۷ ۵۳ - کتاب الصلح أَنْ يَأْخُذُوا التَّمْرَ بمَا عَلَيْهِ فَأَبَوْا وَلَمْ تھا۔میں نے اُن کے قرض خواہوں کے سامنے تجویز يَرَوْا۔أَنَّ فِيْهِ وَفَاءً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی پیش کی کہ جو قرض اُن کے ذمہ ہے، اُس کے بدلہ میں کی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ پھل لے لیں۔وہ نہ مانے کیونکہ اس میں وہ اپنے قرضہ فَقَالَ إِذَا جَدَدْتَهُ فَوَضَعْتَهُ فِي الْمِرْبَدِ کی پوری ادائیگی نہ دیکھتے تھے۔میں نبی ﷺ کے پاس آذَنْتَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا: جب تم وَسَلَّمَ فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ انہیں تو ڑو اور خرمن میں رکھ دو تو رسول اللہ ﷺ کو فَجَلَسَ عَلَيْهِ وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ اطلاع دینا۔پھر آپ آئے اور آپ کے ساتھ حضرت ادْعُ غُرَمَاءَكَ فَأَوْفِهِمْ فَمَا تَرَكْتُ ابوبکر اور حضرت عمر بھی تھے۔آپ (خرمن) کے قریب بیٹھ گئے اور برکت کے لئے دعا کی۔پھر آپ نے فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ اور انہیں اُن کا قرضہ پورا پورا ادا کرو۔پھر جس کسی شخص کا قرض بھی میرے باپ کے ذمہ تھا۔میں نے اُسے نہیں چھوڑا اور قرض ادا أَحَدًا لَّهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِلَّا قَضَيْتُهُ وَفَضَلَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا سَبْعَةٌ عَجْوَةٌ وَسِتَةٌ لَوْنٌ أَوْ سِتَّةٌ عَجْوَةٌ وَسَبْعَةٌ لَوْنٌ فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کر دیا۔تیرہ ومق بیچ رہے۔سات وسق عجوہ کھجور کی قسم ) وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ اور چھ وسق لون (کھجور کی قسم یا چھ وسق عجوہ اور سات فَضَحِكَ فَقَالَ انْتِ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَق لون۔پھر میں مغرب کے وقت رسول اللہ علے فَأَخْبِرْهُمَا فَقَالَا لَقَدْ عَلِمْنَا إِذْ صَنَعَ سے ملا اور آپ سے اس کا ذکر کیا۔آپ ہنسے اور فرمایا: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا ابو بکر اور عمر کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ۔اُن دونوں صَنَعَ أَنْ سَيَكُونُ ذَلِكَ۔نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ نے وہ کیا جو آپ نے کیا تو ہم اُسی وقت جان چکے تھے کہ ایسا ہی ہوگا۔وَقَالَ هِشَامٌ عَنْ وَهْبٍ عَنْ جَابِرٍ اور ہشام نے وہب سے، وہب نے حضرت جابر صَلَاةَ الْعَصْرِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا بَكْرٍ سے روایت کرتے ہوئے (مغرب کی جگہ ) عصر کی وَلَا ضَحِكَ وَقَالَ وَتَرَكَ أَبِي عَلَيْهِ نماز کا ذکر کیا اور حضرت ابوبکر کا ذکر نہیں کیا اور نہ کہا کہ