صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 442 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 442

صحيح البخاری جلده ۴۴۲ ۵۷- کتاب فرض الخمس رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خالص تھیں اور اللہ کی قسم ! آپ نے تمہیں چھوڑ کر اپنے يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا لئے کچھ نہیں لیا۔نہ ان جائیدادوں سے متعلق اپنے الْمَالِ ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ آپ کو تم پر مقدم رکھا ہے۔آپ نے یہ تمہیں دیں اور مَالِ اللهِ فَعَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تمہارے کاموں میں وہ کھلے طور پر خرچ کر دیں۔یہاں تک کہ ان میں سے یہ مال باقی رہ گیا۔رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ حَيَاتَهُ أَنْشُدُكُمْ ﷺ اس جائیداد سے اپنے اہل بیت کے لئے بطور بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ ذَلِكَ قَالُوا نَعَمْ سالانہ خرچ کیا کرتے تھے اور جو باقی رہتا وہ لے کر ثُمَّ قَالَ لِعَلِي وَعَبَّاسِ أَنْشُدُكُمَا اللَّهَ الله کے مال میں شامل کر دیتے۔رسول اللہ ﷺ نے هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِكَ قَالَ عُمَرُ ثُمَّ تَوَفَّى اس پر اپنی ساری عمر عمل فرمایا۔میں تم کو اللہ کی قسم دے کر اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ پوچھتا ہوں: کیا تمہیں اس کا علم ہے؟ تو انہوں نے کہا: أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى الله ہاں۔پھر حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ اور حضرت عباس سے کہا: میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا فِيْهَا بِمَا عَمِلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ تمہیں بھی اس کا علم ہے؟ (تو انہوں نے کہا: ہاں۔) حضرت عمرؓ نے کہا: پھر اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو وفات صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ فِيهَا دی اور حضرت ابو بکر نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا لَصَادِقٌ بَارٌ رَاشِدٌ تَابِعَ لِلْحَقِّ ثُمَّ جانشین ہوں اور حضرت ابو بکر نے یہ جائیدادیں اپنے تَوَفَّى اللهُ أَبَا بَكْرٍ فَكُنْتُ أَنَا وَلِيَّ قبضہ میں لیں اور ان سے متعلق وہی عمل کیا جو رسول اللہ أَبِي بَكْرٍ فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِي ﷺ کیا کرتے تھے اور اللہ جانتا ہے کہ وہ اس میں أَعْمَلُ فِيْهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ ،بچے ، نیک، راہ راست پر چلنے والے اور حق کے تابع تھے۔پھر اللہ نے حضرت ابو بکر کو وفات دی اور میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عَمِلَ حضرت ابو بکر کا جانشین ہوا اور میں نے اپنی خلافت کے فِيْهَا أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي فِيهَا دو سال ان جائیدادوں کو اپنے قبضہ میں رکھا۔ان سے لَصَادِقٌ بَارٌ رَاشِدُ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ متعلق وہی عمل کرتارہا جو رسول اللہ ﷺ نے اور حضرت جِئْتُمَانِي تُكَلِّمَانِي وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ ابو بکر نے کیا اور اللہ جانتا ہے کہ میں ان جائیدادوں کی