صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 442
صحیح البخاری جلده م ۵۷ - کتاب فرض الخمس رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خالص تھیں اور اللہ کی قسم ! آپ نے تمہیں چھوڑ کر اپنے يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا لئے کچھ نہیں لیا۔ نہ ان جائیدادوں سے متعلق اپنے الْمَالِ ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ آپ کو تم پر مقدم رکھا ہے۔ آپ نے یہ تمہیں دیں اور مَالِ اللَّهِ فَعَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله تمہارے کاموں میں وہ کھلے طور طور پر خرچ کر دیں۔ یہاں تک کہ ان میں سے یہ مال باقی رہ گیا۔ رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ حَيَاتَهُ أَنْشُدُكُمْ صلى الله لئے بطور علی اس جائیداد سے اپنے اہل بیت کے لئے بے بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُوْنَ ذَلِكَ قَالُوْا نَعَمْ سالانہ خرچ کیا کرتے تھے اور جو باقی رہتا وہ لے کر صلى الله ثُمَّ قَالَ لِعَلِيّ وَعَبَّاسٍ أَنْشُدُ كُمَا الله اللہ کے مال میں شامل کر دیتے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ۔ هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِكَ قَالَ عُمَرُ ثُمَّ تَوَفَّى اس پر اپنی ساری عمر عمل فرمایا۔ میں تم کو اللہ کی قسم دے کر اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ پوچھتا ہوں : کیا تمہیں اس کا علم ہے؟ تو انہوں نے کہا: أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ ہاں۔ پھر حضرت عمر نے حضرت علیؓ اور حضرت عباس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ فَعَل سے کہا میں دونوں والد کی قسم دے کر پوچھتاہوں کہ کیا تمہیں بھی اس کا علم ہے؟ ( تو انہوں نے کہا: ہاں۔) فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ صلى الله حضرت عمر نے کہا: پھر اللہ نے اپنے نبی علیہ کو وفات نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ فِيْهَا دی اور حضرت ابوبکرؓ نے صلى الله اور حضرت ابوبکر نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا لَصَادِقٌ بَارٌ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ جانشین ہوں اور حضرت ابوبکر نے یہ جائیدادیں اپنے تَوَفَّى اللهُ أَبَا بَكْرٍ فَكُنْتُ أَنَا وَلِيَّ قبضہ میں لیں اور ان سے متعلق وہی عمل کیا جو رسول اللہ أَبِي بَكْرٍ فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِي کیا کرتے تھے اور اللہ جانتا ہے کہ وہ اس میں أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ چے، نیک، راہ راست پر چلنے والے اور حق کے تابع صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عَمِلَ تھے۔ پھر اللہ نے حضرت ابوبکر کو وفات دی اور میں حضرت ابوبکر کا جانشین ہوا اور میں نے اپنی خلافت کے فِيهَا أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي فِيهَا دو سال ان جائیدادوں کو اپنے قبضہ میں رکھا۔ ان سے لَصَادِقٌ بَارٌ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ متعلق وہی عمل کرتا رہا جو رسول اللہ ﷺ نے اور حضرت جِئْتُمَانِي تُكَلِّمَانِي وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ ابو بکر نے کیا اور اللہ جانتا ہے کہ میں ان جائیدادوں کی