صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 443
صحيح البخاری جلده ۵۷ - کتاب فرض الخمس وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ جِئْتَنِي يَا عَبَّاسُ نسبت سچا، نیک، راست رو اور تابع حق تھا۔ پھر تم دونوں تَسْأَلُنِي نَصِيبَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ میرے پاس آئے کہ ان جائیدادوں کی نسبت تم مجھ سے وَجَاءَنِي هَذَا يُرِيدُ عَلِيًّا يُرِيدُ بات کرو اور تمہاری گفتگو ایک ہی تھی اور تمہارا معاملہ ایک۔ نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيْهَا فَقُلْتُ لَكُمَا عباس ! تم اپنے بھتیجے کے مال سے اپنا حصہ مانگنے کو إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میرے پاس آئے اور یہ ٹی بھی میرے پاس اپنی بیوی کا حصہ لینے کے لئے آئے جو انہیں ان کے باپ سے پہنچا قَالَ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ فَلَمَّا تھا۔ تو میں نے تم دونوں سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے بَدَا لِي أَنْ أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا قُلْتُ إِنْ فرمایا ہے کہ ہمارا کوئی وارث نہیں جو ہم چھوڑ جائیں صدقہ شِئْتُمَا دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ ہوتا ہے۔ پھر جب مجھے یہ مناس یہ مناسب معلوم ہوا کہ تم دونوں عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيْثَاقَهُ لَتَعْمَلَانِ کو وہ جائیداد سپرد کر دوں۔ تو میں نے کہا: اگر تم دونوں فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيْهَا رَسُوْلُ اللهِ چاہو تو میں تمہارے سپرد کر دیتا ہوں، اس شرط پر کہ تم پختہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِمَا عَمِلَ اقرار کرو کہ تم ان جائیدادوں کے متعلق وہی عمل کرو گے صلى الله جو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر نے کیا اور جو میں نے فِيهَا أَبُو بَكْرٍ وَبِمَا عَمِلْتُ فِيْهَا ان کے بارے میں عمل کیا ہے جب سے میں ان کا متولی مُنْذُ وَلِيْتُهَا فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا ہوا ہوں تو تم دونوں نے کہا (ہمیں یہ شرط منظور ہے ) فَبِذَلِكَ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا فَأَنْشُدُكُمْ ہمیں وہ جائیدادیں سپرد کر دیں۔ میں نے تم دونوں کو یہ بِاللَّهِ هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا بِذَلِكَ قَالَ جائیدادیں اس شرط کے ساتھ حوالے کر دی تھیں۔ تو میں الرَّهْطُ نَعَمْ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَلِيّ تم سب کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ میں نے ان وَعَبَّاسٍ فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللهِ هَلْ دونوں کو وہ جائیدادیں اس شرط شرط کے ساتھ حوالے کر دی تھیں؟ تو جماعت نے کہا: ہاں۔ پھر حضرت عمرؓ حضرت دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا بِذَلِكَ قَالَا نَعَمْ قَالَ علیؓ اور حضرت عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تم فَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں : کیا میں نے تم فَوَاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُوْمُ السَّمَاءُ دونوں کو یہ جائیدادیں اس شرط کے ساتھ حوالے کر دی وَالْأَرْضُ لَا أَقْضِي فِيْهَا قَضَاءً غَيْرَ تھیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ تو حضرت عمر نے کہا: کیا