صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 26
صحيح البخاری جلده ۲۶ ۵۳ - کتاب الصلح عَلَى الزُّبَيْرِ بِرَأْيِ سَعَةٍ لَّهُ وَلِلْأَنْصَارِي جس میں اُن کے اور اُس انصاری کے لئے بڑی فَلَمَّا أَحْفَظَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ گنجائش تھی۔جب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَوْعَى لِلزُّبَيْرِ علیہ وسلم کو ناراض کر دیا تو آپ نے حضرت زبیر کو حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ۔قَالَ عُرْوَةُ صاف صحیح فیصلہ دے کر ان کا پورا حق دلا دیا۔عروہ نے کہا: حضرت زبیر کہتے تھے: بخدا! میں یہی سمجھتا ہوں قَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ مَا أَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ کہ یہ آیت اسی (واقعہ) سے متعلق نازل ہوئی: نَزَلَتْ إِلَّا فِي ذَلِكَ فَلَا وَرَبَّكَ تیرے رب کی ہی قسم ہے ہرگز ہرگز مومن نہیں ہوں لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا گے جب تک کہ وہ تجھے اُن باتوں میں حکم نہ بنائیں شجَرَ بَيْنَهُمْ (النساء: ٦٦) الْآيَةَ۔جو اُن کے درمیان اختلافی صورت اختیار کرتی ہیں۔اطرافه: ٢٣٦٠، ٢٣٦١، ٢٣٦٢، ٤٥٨٥۔باب ۱۳ اَلصُّلْحُ بَيْنَ الْغُرَمَاءِ وَأَصْحَابِ الْمِيْرَاتِ وَالْمَجَازَفَةُ فِي ذَلِكَ قرض خواہوں اور وارثوں کے درمیان صلح کرانا اور قرضہ کی ادائیگی کے متعلق اندازہ کرنا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا بَأْسَ أَنْ يَتَخَارَجَ اور حضرت ابن عباس نے کہا کہ دوشریک آپس میں الشَّرِيْكَانِ فَيَأْخُذَ هَذَا دَيْنًا وَهَذَا عَيْنًا یوں فیصلہ کرلیں کہ ایک قرض لے لے اور ایک نقد۔فَإِنْ تَوِيَ لِأَحَدِهِمَا لَمْ يَرْجِعْ عَلَى پھر اگر دونوں میں سے ایک کا حصہ ضائع ہو جائے تو وہ اپنے ساتھی سے مطالبہ نہ کرے۔صَاحِبه۔:۲۷۰۹ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۲۷۰۹ محمد بن بشار نے مجھے بتایا۔عبد الوہاب نے حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ہم سے بیان کیا کہ عبید اللہ (عمری) نے ہمیں بتایا۔عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ انہوں نے وہب بن کیسان سے، وہب نے حضرت عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ تُوُفِّيَ جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنْ فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ کہا: میرے باپ فوت ہو گئے اور اُن کے ذمہ کچھ قرض