صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 26 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 26

صحیح البخاری جلده ۲۶ ۵۳ - كتاب الصلح عَلَى الزُّبَيْرِ بِرَأْيِ سَعَةٍ لَّهُ وَلِلْأَنْصَارِيِّ جس میں اُن کے اور اُس انصاری کے لئے بڑی فَلَمَّا أَحْفَظَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللهِ گنجائش تھی ۔ جب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَوْعَى لِلزُّبَيْرِ علیہ وسلم کو ناراض کر دیا تو آپ نے حضرت زبیر کو حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ۔ قَالَ عُرْوَةُ صاف صحیح فیصلہ دے کر ان کا پورا حق دلا دیا۔ عروہ نے قَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ مَا أَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ کہا: حضرت زبیر کہتے تھے: تھے: بخدا ! میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی (واقعہ) سے متعلق نازل ہوئی: ہوں نَزَلَتْ إِلَّا فِي ذَلِكَ فَلَا وَرَبِّكَ تیرے رب کی ہی قسم ہے ہرگز ہرگز مومن نہیں لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا گے جب تک کہ وہ تجھے اُن باتوں میں حکم نہ بنائیں شَجَرَ بَيْنَهُمُ (النساء : ٦٦) الْآيَةَ۔ جو اُن کے درمیان اختلافی صورت اختیار کرتی ہیں۔ اطرافه: ٢٣٦٠ ، ٢٣٦١، ٢٣٦٢، ٤٥٨٥۔ باب ۱۳ الصُّلْحُ بَيْنَ الْغُرَمَاءِ وَأَصْحَابِ الْمِيْرَاثِ وَالْمَجَازَفَةُ فِي ذَلِكَ قرض خواہوں اور وارثوں کے درمیان صلح کرانا اور قرضہ کی ادائیگی کے متعلق اندازہ کرنا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا بَأْسَ أَنْ يَتَخَارَجَ اور حضرت ابن عباس نے کہا کہ دو شریک آپس میں الشَّرِيْكَانِ فَيَأْخُذَ هَذَا دَيْنًا وَهَذَا عَيْنًا یوں فیصلہ کر لیں کہ ایک قرض لے لے اور ایک نقد ۔ فَإِنْ تَوِيَ لِأَحَدِهِمَا لَمْ يَرْجِعْ عَلَى پھر اگر دونوں میں سے ایک کا حصہ ضائع ہو جائے تو صَاحِبِهِ۔ وہ اپنے ساتھی سے مطالبہ نہ کرے۔ ۲۷۰۹ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۲۷۰۹ محمد بن بشار نے مجھے بتایا۔ عبدالوہاب نے حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ہم سے بیان کیا کہ عبید اللہ (عمری ) نے ہمیں بتایا۔ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ انہوں نے وہب بن کیسان سے، وہب نے حضرت عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تُوُفِّيَ جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ کہا: میرے باپ فوت ہو گئے اور اُن کے ذمہ کچھ قرض