صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 25
صحيح البخاری جلده ۲۵ ۵۳- كتاب الصلح بَاب ۱۲ : إِذَا أَشَارَ الْإِمَامُ بِالصُّلْحِ فَأَبَى حَكَمَ عَلَيْهِ بِالْحُكْمِ الْبَيِّنِ امام اگر صلح کرنے کے لئے اشارہ کرے اور کوئی فریق نہ مانے تو اس کے لئے وہ فیصلہ کرے جو نہایت واضح ہو ۲۷۰۸ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۲۷۰۸: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ الزُّبَيْرَ كَانَ :کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت زبیر يُحَدِّثُ أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلًا مِّنَ الْأَنْصَارِ (ان سے) بیان کرتے تھے کہ مدینہ کی پتھریلی زمین قَدْ شَهِدَ بَدْرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى کے ایک کاریزہ کے متعلق ان کا ایک انصاری شخص سے جھگڑا ہوا جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجٍ مِّنَ الْحَرَّةِ كَانَا يَسْقِيَانِ بِهِ كِلَاهُمَا فَقَالَ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ جھگڑا فیصلہ کے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لئے لے آئے ۔ وہ دونوں زمین کو اُس کا ریزہ سے پانی دیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لِلزُّبَيْرِ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى حضرت زبیر سے فرمایا: زبیر! تم پانی دو۔ پھر اپنے پڑوسی جَارِكَ فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ کے لئے چھوڑ دو۔ وہ انصاری ناراض ہو گیا۔ اُس يَا رَسُوْلَ اللهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ نے کہا: یا رسول اللہ ! اس لئے کہ وہ آپ کی پھوپھی کا فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ بیٹا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اسْقِ ثُمَّ ہو گیا۔ پھر آپ نے (حضرت زبیر سے ) فرمایا: تم احْبِسُ حَتَّى يَبْلُغَ الْجَدْرَ فَاسْتَوْعَی پانی دو اور اسے روکے رکھو۔ یہاں تک کہ وہ منڈیروں رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تک آجائے ۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیر کو الله حِينَئِذٍ حَقَّهُ لِلزُّبَيْرِ وَكَانَ رَسُوْلُ اللهِ ان کا پورا حق دلوایا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ پہلے حضرت زبیر کو اپنی رائے کا اشارہ کر چکے تھے، کاریزہ کھیتوں کو پانی دینے کی چھوٹی نالی۔ (فیروز اللغات )