صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 427
صحيح البخارى جلده مَا شِئْتُمْ فَهَذَا الَّذِي جَرَّأَهُ۔تشریح: ۵۶ - كتاب الجهاد والسير کر دیکھا اور فرمایا ہو، تم جو چاہو کرو۔سو یہ بات تھی جس نے حضرت علی کو خونریزی پر جرات دلائی ہے۔اطرافه ۳۰۰۷، ۳۹۸۳، ٤۲۷،۸، ٤٨٩٠ ٦٢٥٩، ٦٩٣٩، إِذَا اضْطُرَّ الرَّجُلُ إِلَى النَّظَرِ فِي شُعُورِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَالْمُؤْمِنَاتِ إِذَا عَصَيْنَ اللَّهَ : ایسی بات جس سے شریعت نے منع کیا ہے استثنائی حالات میں امام کے حکم سے کرنی جائز ہے۔نامحرم عورت کو دیکھنا جائز نہیں۔لیکن بیماری کی حالت میں طبیب اسے دیکھ سکتا ہے۔واقعہ مذکورہ بالا میں نامحرم عورت سے باز پرس کرنی پڑی اور اگر تلاشی لینے کی نوبت پہنچتی تو تلاشی بھی لی جاسکتی تھی۔کیونکہ اس سے ایک قوم کی حفاظت مقصود تھی۔چونکہ روایت سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ عورت ذخمی تھی یا مسلمان، اس لئے عنوان باب میں مسلم اور ذمی کی کوئی تخصیص نہیں کی گئی۔سابقہ باب ہی کے تعلق میں یہ باب بھی ہے کہ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الفَتح سے یہ سمجھنا کہ قطعی طور پر آئندہ کے لئے ہجرت کا دروازہ بند کیا گیا ہے، درست نہیں۔جیسا کہ سابقہ باب کی تشریح میں امام ابن حجر کی رائے کا مفصل ذکر کیا گیا ہے۔بَابِ ١٩٦ : اسْتِقْبَالُ الْغُزَاةِ غازیوں کا استقبال کرنا ۳۰۸۲: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي :۳۰۸۲ عبداللہ بن ابی الاسود نے ہم سے بیان کیا الْأَسْوَدِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ وَحُمَيْدُ که یزید بن زُریع اور محمید بن اسود نے ہمیں بتایا۔ابْنُ الْأَسْوَدِ عَنْ حَبِيْبِ بْنِ الشَّهِيدِ انہوں نے حبیب بن شہید سے، حبیب نے ابن ابی عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مُلیکہ سے روایت کی کہ حضرت ابن زبیر نے حضرت لِابْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَتَذْكُرُ ابن جعفر رضی اللہ عنہم سے کہا: کیا تمہیں یاد ہے کہ میں إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اور تم نے اور ابن عباس نے آگے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا تھا؟ انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ وَابْنُ عَبَّاسِ قَالَ نَعَمْ ہاں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سوار کر لیا فَحَمَلَنَا وَتَرَكَكَ۔تھا اور تمہیں چھوڑ دیا تھا۔٣٠٨٣ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۳۰۸۳: مالك بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔زہری سے روایت ہے کہ