صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 426 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 426

صحيح البخاری جلده ۵۶ - کتاب الجهاد والسير أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے سعد بن عبیدہ سے ، سعد عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَكَانَ عُثْمَانِيًّا نے ابو عبد الرحمن سے روایت کی اور وہ حضرت عثمان کے فَقَالَ لِابْنِ عَطِيَّةَ وَكَانَ عَلَوِيًّا إِنِّي حالی تھے۔ ا تھے۔ انہوں نے ابن عطیہ سے جو حضرت علیؓ کے لأَعْلَمُ مَا الَّذِي جَرَّأَ صَاحِبَكَ عَلَى ☆ صل الله گی ہے حامی تھے، کہا: میں خوب جانتا ہوں کہ کس بات نے تمہارے ساتھی کو خونریزی کرنے کی جرات دلائی ہے۔ الدِّمَاءِ سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ بَعَثَنِي النَّبِيُّ میں نے ان کو یہ کہتے سنا کہ بی اے نے مجھے اور زبیر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالزُّبَيْرَ فَقَالَ کو بیجا اور فرمایا: فلاں باغیچہ میں جاؤ اور وہاں تم ایک انْتُوْا رَوْضَةَ كَذَا وَ تَجِدُوْنَ بِهَا امْرَأَةً عورت پاؤ گے۔ حاطب نے اسے ایک خط دیا ہے۔ أَعْطَاهَا حَاطِبٌ كِتَابًا فَأَتَيْنَا الرَّوْضَةَ} {چنانچہ ہم اس باغیچہ میں ۔ اس باغیچہ میں پہنچے } اور ہم نے کہا: خط نکالو۔ فَقُلْنَا الْكِتَابَ قَالَتْ لَمْ يُعْطِنِي فَقُلْنَا کہنے لگی: مجھے تو (خاطب نے کوئی خط نہیں دیا۔ ہم نے کہا تمہیں خط نکالنا ہوگا۔ ورنہ میں تمہیں برہنہ کرتا ہوں۔ لَتُخْرِجِنَّ أَوْ لَأُجَرِدَنَّكِ فَأَخْرَجَتْ یہ سن کر اس نے اپنے نیفے سے وہ خط نکالا۔ (ہم نبی کریم مِنْ حُجْزَتِهَا فَأَرْسَلَ إِلَى حَاطِبٍ کے پاس پہنچے) آپ نے پ نے حاطب کو بلا بھیجا۔ انہوں فَقَالَ لَا تَعْجَلْ وَاللَّهِ مَا كَفَرْتُ وَلَا نے عرض کیا، حضور آپ جلدی نہ فرمائیں۔ اللہ کی قسم میں صلى الله عروسة ازْدَدْتُ لِلْإِسْلَامِ إِلَّا حُبًّا وَلَمْ يَكُنْ کافر نہیں ہوں اور میں اسلام کی محبت میں بڑھا ہوا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ إِلَّا وَلَهُ بِمَكَّةَ مَنْ ہوں ۔ آپ کے صحابہ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَلَمْ يَكُنْ مکہ میں کوئی نہ کوئی تعلق والا نہ ہو جس کے ذریعہ سے اللہ لي أَحَدٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ اس کے بال بچوں اور جائیداد کی حفاظت کر رہا ہے اور يَدًا فَصَدَّقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میرا وہاں کوئی نہیں۔ میں نے چاہا کہ مکہ والوں پر کوئی احسان کردوں۔ نبی ﷺ نے انہیں سچا قرار دیا۔ حضرت وَسَلَّمَ قَالَ عُمَرُ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ عمرؓ نے عرض کیا: مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن فَإِنَّهُ قَدْ نَافَقَ فَقَالَ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ مار دوں۔ کیونکہ اس نے منافقت کی ہے۔ نبی کریم علی صلى الله عليسة اللهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا نے فرمایا تمہیں کیا علم؟ شاید اللہ نے بدر والوں کو جھانک یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزء ۶ ہیں ( فتح الباری جزء ۶ حاشیہ صفحہ ۲۲۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔