صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 428 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 428

صحيح البخاری جلده ۴۲۸ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير قَالَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انہوں نے کہا: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ ذَهَبْنَا نَتَلَقَّى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله کہتے تھے : ہم بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع تک عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الصّبْيَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے جا کر ملیں۔الْوَدَاع اطرافه: ٤٤٢٦، ٤٤٢٧۔اِسْتِقْبَالُ الْغُزَاةِ: روایت نمبر ۳۰۸۲ کیلئے کتاب العمرة ، باب ۱۳، روایت نمبر ۱۷۹۸ بھی دیکھئے تشریح: اس میں یہ الفاظ ہیں: لَمَّا قَدِمَ النَّبِي مَكَّةَ اسْتَقْبَلَتْهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَآخَرَ خَلْفَهُ۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں آئے تو بنو عبدالمطلب کے کم عمر لڑکوں نے آپ کا استقبال کیا۔حضرت جعفر بن ابی طالب فوت ہو گئے تھے اور ان کا بیٹا یتیم تھا۔اس لئے شفقت سے ان کے بچے حضرت عبداللہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر بٹھا لیا تھا۔حضرت عبداللہ بن زبیر کے سوار نہ کئے جانے سے متعلق بعض شارحین نے مسلم وغیرہ کی روایتوں کی بناء پر سوال اُٹھایا ہے کہ مذکورہ بالا روایت محل نظر ہے۔لیکن امام ابن حجر نے عیاض وغیرہ کے حوالہ سے بتایا ہے کہ امام بخاری کی روایت ہی درست ہے۔امام موصوف کا مذکورہ بالا باب قائم کرنے سے مقصد ایک مفصل روایت کی تصحیح کرنا بھی ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۲۳۰، ۲۳۱) باب ۱۹۷ : مَا يَقُوْلُ إِذَا رَجَعَ مِنَ الْغَزْوِ جب غزوہ سے لوٹے تو کیا کہے ٣٠٨٤ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۳۰۸۴ موسى بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةً عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ جویریہ نے بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ملے رَضِيَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ كَبَّرَ ثَلَاثًا جب سفر سے لوٹے تو تین بار اللہ اکبر کہتے اور فرماتے اگر اللہ نے چاہا تو ہم واپس لوٹنے والے ہیں۔اپنے رب قَالَ آيَبُوْنَ إِنْ شَاءَ اللهُ تَائِبُونَ کے حضور توبہ کرنے والے، اپنے رب کی عبادت کرنے عَابِدُونَ حَامِدُونَ لِرَبِّنَا سَاجِدُونَ والے اور اپنے رب کی ستائش کرنے والے اور اپنے صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ رب کو سجدہ کرنے والے ہیں۔اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ۔اور اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور سارے دشمنوں کو تنہا اطرافه ۱۷۹۷، ۲۹۹۵، ٤١١٦، ٦٣٨٥۔شکست دے کر بھگا دیا۔