صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 425
صحيح البخاری جلده ۴۲۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ۳۰۸۰: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۳۰۸۰ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرُو وَابْنُ جُرَيْج (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔عمرو بن دینار) اور سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُوْلُ ذَهَبْتُ مَعَ عُبَيْدِ ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء سے سنا۔کہتے تھے کہ ابْنِ عُمَيْرِ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا میں عبید بن عمیر کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وَهِيَ مُجَاوِرَةٌ بِشَيْرٍ فَقَالَتْ لَنَا کے پاس گیا اور وہ شیر ( پہاڑ ) کے قریب مقیم تھیں۔انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ مُذْ فَتَحَ اللهُ عَلَی انہوں نے ہم سے کہا: جب سے اللہ نے اپنے نبی کو مکہ فتح کرایا ہے ہجرت موقوف ہو گئی ہے۔نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ۔اطرافه: ۳۹۰۰، ٤۳۱۲۔تشریح : لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتح مکہ سے مسلمانوں کو ہجرت کی ضرورت اسی لئے پیش آئی تھی کہ وہ جگہ جو حرم کہلاتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو وہاں مذہبی آزادی حاصل نہ تھی اور وہ اظہار عقیدہ کی وجہ سے مظالم کا تختہ مشق بنائے گئے تھے۔فتح مکہ کے بعد آپ کو کامل تسلط اور غلبہ حاصل ہو گیا اور آپ نے مذہبی آزادی کا اعلان فرما دیا اور کوئی ایسی مشکل نہ رہی جس کی وجہ سے وطن چھوڑنا پڑتا۔ارشادِ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ کے تعلق میں امام ابن حجر لکھتے ہیں: مکہ مکرمہ کی ہجرت سے متعلق جو حکم تھا اس کا اطلاق دوسری جگہوں پر بھی ہوتا ہے۔اگر کسی جگہ اختلاف مذہبی کی وجہ سے ظلم نہیں اور اظہار خیالات کی آزادی ہے تو وہاں سے ہجرت جائز نہیں۔ورنہ اگر ویسے حالات ظلم و تعدی کے ہوں جو مکہ مکرمہ میں تھے جن کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کرنی پڑی، اگر کوئی شخص ہجرت کرنے پر قدرت رکھتا ہو تو اس کا فرض ہے کہ وہ اس جگہ کو چھوڑ دے اور ایسی جگہ چلا جائے جہاں امن ہو اور اگر ہجرت کرنے سے عاجز ہو تو وہیں ٹھہرے اور صبر وتحمل سے ظلم برداشت کرے۔اسے اس اقامت پر بھی ثواب ہوگا۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۲۲۸) بَاب ١٩٥ : إِذَا اضْطُرَّ الرَّجُلُ إِلَى النَّظَرِ فِي شُعُوْرِ أَهْلِ الذَّمَّةِ وَالْمُؤْمِنَاتِ إِذَا عَصَيْنَ اللَّهَ وَتَجْرِيْدِهِنَّ اگر (مسلمان) مرد زنی اور مومن عورتوں کے بال دیکھنے اور کپڑے اتارنے پر مجبور ہو جائے جبکہ وہ (عورتیں) اللہ کی نافرمان ہوں ( تو ایسا کرنا جائز ہے) ۳۰۸۱: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۳۰۸۱: محمد بن عبداللہ بن حوشب طائفی نے مجھ سے ابْنِ حَوْشَبِ الطَّائِفِيُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ بیان کیا کہ میشیم نے ہمیں بتایا حصین ( بن عبدالرحمن )