صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 24
صحيح البخاری جلده ۵۳ - كتاب الصلح بَاب ۱۱ : فَضْلُ الْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ وَالْعَدْلِ بَيْنَهُمْ لوگوں کے درمیان صلح کرانے اور ان کے درمیان انصاف کرنے کی فضیلت ۲۷۰۷: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۲۷۰۷: اسحاق (بن منصور ) نے ہم سے بیان کیا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ کہ عبد الرزاق نے ہمیں خبر دی ۔ معمر نے ہمیں بتایا۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ انہوں نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے ہر جوڑ پر ہردن يَوْمِ تَطْلُعُ فِيْهِ الشَّمْسُ يَعْدِلُ بَيْنَ جس میں سورج نکلتا ہے صدقہ لازم ہے۔ لوگوں کے النَّاسِ صَدَقَةٌ۔ اطرافه: ۲۸۹۱، ۲۹۸۹ در میان عدل کرے تو یہ بھی صدقہ ہے۔ تشريح : فَضْلُ الإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ وَالْعَدْلِ بَيْنَهُمْ: عنوان باب میں لفظ عدل کا عطف لفظ اصلاح پر ہے۔ جس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ لوگوں میں صلح اس صورت میں قائم رہ سکتی ہے جب ان میں عدل قائم ہو۔ عدل کے معنی ہیں اعتدال مناسب ۔ ارشاد نبوی میں ہاتھوں و پاؤں کے پوروں اور جسم کے جوڑوں کا ذکر اس لئے فرمایا ہے کہ ان سے جسم کے مختلف اعضاء میں اعتدال و مناسبت قائم ہوتی ہے اور کوئی ایک جوڑ اپنی جگہ پر نہ ہو تو انسان بے چین ہو جاتا ہے۔ سکون واطمینان کی حالت اسی وقت تک قائم رہ سکتی ہے جب ہر پور اور ہر جوڑ اپنی جگہ پر ہو۔ یہی حالت اعتدال جب افراد معاشرہ میں قائم ہو تو اُس کا امن برقرار رہتا ہے اور یہی فضیلت اصلاح و عدل کی ہے۔ يَعْدِلُ بَيْنَ النَّاسِ : یہ جملہ دراصل یوں ہے اَنْ يَعْدِلَ بَيْنَ النَّاسِ صَدَقَةٌ ۔ لوگوں میں عدل کرنا صدقہ ہے۔ أَنْ يَعْدِلَ بتاویل مصدر مبتداء ہے اور صَدَقَةٌ اُس کی خبر ہے ۔ کہتے ہیں تَسْمَعُ بِالْمُعَيْدِيِّ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَرَاهُ۔ معیدی کا ذکر اذکار سننا اُس کے دیکھنے سے بہتر ہے۔ عربی کی یہ مشہور ضرب المثل ہے۔ اس میں بھی تَسْمَعُ بتادیل مصدر مبتداء ہے اور مراد یہ ہے کہ اَنْ تَسْمَعَ یعنی تیر اسننا۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحه ۲۸۷) سلامی کے معنی پور اور جوڑ ؛ اس کی جمع سُلامیات ہے۔ قدیم تشریح الابدان کے مطابق انسانی جسم میں ۳۶۰ جوڑ ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر جوڑ سے مت ہر جوڑ سے متعلق فعل کو اگر وہ اللہ کی رضا کے ماتحت صادر ہو ، صدقہ قرار دیا ہے۔ اسی شرط پر اصلاح و عدل کی فضیلت متحقق ہوتی ہے۔