صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 419 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 419

صحيح البخاری جلده ۴۱۹ ۵۶-کتاب الجهاد والسير تشریح: وَمَنْ يُغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ : العُلُولُ کے معنی ہیں مطلق مالی خیانت۔بعض نے علی کے معنی مال غنیمت میں سے کوئی مال چھپالینے کے کئے ہیں مگر لغت میں اس کے معنی پوشیدہ طور پر کسی کا مال لے کر اپنے مال میں ملا لینے کے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحہ ۶ ) (لسان العرب - غل ) قرآن مجید کی جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ چونکہ آیت جہاد فی سبیل اللہ کے تعلق میں وارد ہوئی ہے، اس لئے بعض مفسرین نے لفظ غُلُوں سے مال غنیمت میں ج خیانت مراد لی ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَمَا كَانَ لِنَبِي أَنْ يَغُلُّ وَمَنْ يُغْلُلُ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ = ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ) (آل عمران: ۱۲۲ ) کسی نبی کے شایان شان نہیں کہ وہ خیانت کرے اور جو شخص خیانت کرے گا، وہ اپنے خیانت سے حاصل کئے ہوئے (مال) کو قیامت کے دن خود ہی ظاہر کر دے گا۔پھر ہر ایک جان کو جو کچھ اس نے کمایا ہو گا پورا پورا دے دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔( ترجمہ از تفسیر صغیر ) مالی خیانت کبیرہ گناہوں میں سے شمار کی گئی ہے اور مذکورہ بالا آیت میں انبیاء سے اس الزام کی نفی کی گئی ہے کہ وہ مال غنیمت میں خیانت کریں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء میں سے بعض پر ایسا الزام عائد کیا گیا تھا۔اس آیت کا اسلوب وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيطِينَ كَفَرُوا (البقرة :۱۰۳) کا سا ہے۔یہودیوں نے اپنے انبیاء پر شرک، بداعتمادی، بد عملی اور خیانت کے الزامات لگائے ہیں۔عہد قدیم کے صحیفے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم کا کوئی نبی اس قسم کے الزامات سے محفوظ نہیں رہا۔آیت محولہ بالا میں خیانت کی تہمت سے انبیاء کی برات کا اظہار ہے۔فرائض منصبی میں کوتاہی بھی درحقیقت خیانت ہے اور لفظ غلوں کے لغوی معنی ہیں طریق صواب۔یعنی راہ راست سے ہننا۔سیاق کلام میں مؤمنین مخاطب کئے گئے ہیں اور انہیں قتال فی سبیل اللہ کی ترغیب اور شہادت کے بلند درجہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور بعد ازاں سورۃ آل عمران میں خَیرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (آل عمران : ۱۵۸) کہہ کر شہادت تمام نعمتوں سے اعلی نعمت قرار دی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مظہر رحمت بنایا ہے اور مؤمنین کی کوتاہیوں اور لغزشوں پر استغفار کرنے کے لیے حکم دیا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے اور جہاد کے لئے عزم کرنے کا ارشاد کیا ہے اور اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نصرت کا وعدہ کیا ہے۔عنوانِ باب میں جو لفظ غلول اختیار کیا گیا ہے وہ فرض منصبی کی ادائیگی میں کو تاہی وخیانت پر دلالت کرتا ہے۔پس سیاق آیات کے لحاظ سے لفظ غلول کا مفہوم صرف مالی خیانت تک محدود رکھنا روح کلام کے خلاف ہے اور عام معنوں میں لینا روح کلام کے بالکل مطابق ہے۔کیونکہ مضمون عام ہے اور مومن مجاہدین سے خطاب ہے اور یہود کی زبان زد روایات کا رڈ کرنا مقصود ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی شان سے بالا ہے کہ وہ فرائض منصبی میں کسی قسم کی خیانت یا کوتاہی کریں۔خصوصاً اس لئے بھی کہ بعد کی آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مومنوں کے لئے احسان عظیم اور نعمت عظمی قرار دی گئی ہے اور اس کی چار اغراض بیان ہوئی ہیں۔جس میں سے ایک بڑی غرض تزکیہ نفس بھی ہے۔امام بخاری نے عنوانِ باب میں محولہ بالا آیت کے حوالہ سے لفظ غلول کی تشریح کر کے یہی سمجھانا چاہا ہے کہ مومن کاملا اور سلیمان کا فرنہ تھا بلکہ (اس کے ) باغی کا فر تھے۔“ ( ترجمہ از تفسیر صغیر)