صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 418 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 418

صحيح البخاری جلده فَعَظَمَهُ وَعَظَمَ أَمْرَهُ قَالَ لَا أَلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ ۴۱۸ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير أَبُو زُرْعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابوزرعہ نے مجھ سے بیان رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ فِيْنَا النَّبِيُّ کیا۔وہ کہتے تھے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْغُلُوْلَ سے بیان کیا، کہا: نبی ﷺ ہم میں کھڑے ہوئے اور غنیمت کے مال میں خیانت کرنے کا ذکر فرمایا اور اسے بہت بڑا گناہ قرار دیا اور اس کی سزا بہت بڑی قرار دی۔آپ نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن {شَاةٌ لَهَا تُغَاء وَعَلَى رَقَبَتِهِ } فَرَسٌ التي حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر لا بکری سوار لَّهُ حَمْحَمَةٌ يَقُوْلُ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَعْثَنِي ہو جو ممارہی ہو یا اس کی گردن پر گھوڑا ہو جو ہنہنا فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ رہا ہو۔وہ شخص مجھ سے کہہ رہا ہو: یا رسول اللہ ! میری مدد وَعَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيْرٌ لَّهُ رُغَاء يَقُولُ یا کیجئے اور میں کہوں تمہارے لئے میں کچھ نہیں کر سکتا۔رَسُولَ اللَّهِ أَعْثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ میں نے تمہیں اللہ کا حکم پہنچادیا تھا۔یا اس کی گردن پر لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ وَعَلَى رَقَبَتِهِ اونٹ سوار ہو جو بلبلا رہا ہو اور وہ شخص مجھ سے کہہ رہا ہو: یا رسول اللہ ! میری مدد کیجئے اور میں کہوں کہ میں کچھ صَامِت فَيَقُولُ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَغِثْنِي نہیں کر سکتا۔میں نے تمہیں (اللہ کا حکم ) پہنچا دیا تھا۔فَأَقُوْلُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ یا اس کی گردن پر سونا چاندی لا دے ہوئے ہوں اور وہ أَوْ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ کہہ رہا ہو، یا رسول اللہ ! میری مدد کو پہنچیں اور میں يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ کہوں میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔میں نے لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ۔وَقَالَ أَيُّوبُ تمہیں اللہ کا حکم پہنچا دیا تھا۔یا اس کی گردن پر کپڑوں عَنْ أَبِي حَيَّانَ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ۔کے ٹکڑے لا دے ہوں جو ہوا سے اُڑ رہے ہوں اور وہ کہے: یا رسول اللہ ! میری مدد کو پہنچیں اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔میں نے تمہیں اللہ کا حکم پہنچا دیا تھا۔اور ایوب نے ابو حیان سے یہی نقل کیا کہ اس کی گردن پر گھوڑا ہو جو ہنہنا رہا ہو۔اطرافه: ۱٤٠٢، ۲۳۷۸، ٦٩٥٨۔یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء ۶ حاشیہ صفحہ ۲۲۲۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔