صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 417
صحيح البخاری جلده ۴۱۷ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ۳٠٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۳۰۷۲ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے ابْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله محمد بن زیاد سے محمد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ عَنْهُ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيّ أَخَذَ تَمْرَةً سے روایت کی کہ حضرت حسن بن علی نے صدقہ کی مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيْهِ کھجوروں میں سے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ڈالی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فارسی میں ان سے بِالْفَارِسِيَّةِ سِخْ كِخْ أَمَا تَعْرِفُ أَنَّا فرمایا: كخُ کخ۔یعنی چھٹی چھی۔کیا تمہیں علم نہیں کہ لا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ۔اطرافه: ١٤٨٥، ١٤٩١- ہم صدقہ نہیں کھاتے ؟ تشريح : گفتگوکرنا مَنْ تَكَلَّمَ بِالْفَارِسِيَّةِ وَالرَّطَانَةِ : بعض کمزور روایتوں میں آیا ہے کہ فارسی زبان میں گو مکروہ ہے کیا اس باب میں ان روایتوں کے ضعف کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے اور اس خیال کے رد میں دو آیتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ایک آیت میں زبانوں کا اختلاف نشانات ربانیہ قرار دیا گیا ہے اور دوسری میں وحی کرسالت سے متعلق بتایا گیا ہے کہ نبی کی زبان ہی میں اس کا نزول ہوتا ہے۔دونوں باتیں متضاد نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا تعلق تمام اقوام عالم سے ہے۔(کتاب الصلاة، باب ۵۲ ، روایت نمبر ۴۳۸) مسلمانوں کا فرض ہے کہ غیر قوموں کی زبان سے واقف ہوں تا فریضہ تبلیغ ادا کرنے کے قابل ہوں۔مندرجہ بالا روایات میں الفاظ سُورًا، سَنَهُ اور کخ فارسی اور حبشی زبان کے ہیں۔مشار الیہا ضعیف روایات کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۲۲۱۔بَاب ۱۸۹ : الْغُلُوْلُ تقسیم سے پہلے مال غنیمت سے کچھ لے لینا وَقَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ يَغْلُلْ اور اللہ عزوجل کا فرمانا: اور جو غنیمت کے مال میں يَأْتِ بِمَا غَلَّ۔(آل عمران: ١٦٢) خیانت کرے گا تو وہ قیامت کے روز اس خیانت کے ساتھ آئے گا جو اس نے کی ہوگی۔۳۰۷۳: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۳۰۷۳: مدد نے ہم سے بیان کیا کہ بکی (قطان) يَحْيَى عَنْ أَبِي حَيَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوحیان ( یحی بن سعید ) سے (المستدرک علی الصحیحین ، كتاب معرفة الصحابة، باب فضل كافة العرب)