صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 416 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 416

صحیح البخاری جلده ام ۵۶ - كتاب الجهاد والسير رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ سنا۔ وہ کہتے تھے میں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم نے ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَّنَا وَطَحَنْتُ صَاعًا مِنْ بکری کا ایک چھوٹا سا بچہ ذبح کیا ہے جو ہمارا ہی تھا اور شَعِيْرٍ فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ فَصَاحَ النَّبِيُّ ایک صاع جو بھی پیسے ہیں۔ اس لئے آپ اور کچھ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَهْلَ لوگ تشریف لائیں ۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُورًا آواز دی اور فرمایا: اے خندق والو! جابر نے ضیافت فَحَيَّ هَلَّا بِكُمْ۔ اطرافه: ٤١٠١، ٤١٠٢۔ تیار کی ہے آؤ چلو ، جلدی کرو۔ ۳۰۷۱: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ا۳۰۷: حبان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد بن سعید عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ سے، خالد نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابْنِ سَعِيدٍ قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ حضرت ام خالد بنت خالد بن سعید سے روایت کی۔ وہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي کہتی تھیں : میں اپنے باپ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ صلى الله عبد اللہ کہتے وَعَلَيَّ قَمِيْصٌ أَصْفَرُ قَالَ رَسُولُ اللہ کے پاس آئی اور میں زرد رنگ کی قمیص پہنے ہوئے تھی۔ رسول الله الله نے فرمایا: سَنَهُ سَنَهُ - عبدا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَهُ سَنَهُ قَالَ تھے : یہ لفظ حبشی زبان میں حسنہ کا ہم معنی ہے۔ یعنی عَبْدُ اللَّهِ وَهِيَ بِالْحَبَشِيَّةِ حَسَنَةٌ قَالَتْ نہایت عمدہ ہے، نہایت عمدہ ہے۔ وہ کہتی تھیں: میں فَذَهَبْتُ أَلْعَبُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَزَبَرَنِي مہر نبوت سے کھیلنے لگی تو میرے باپ نے مجھے جھڑ کا۔ أَبِي قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رہنے دو۔ وَسَلَّمَ دَعْهَا ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعادی: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْلِي وَأَخْلِقِي نت نئے کپڑے پہتی رہو۔ نت نئے نئے کپڑے پہنتی رہو۔ نت نئے کپڑے پہنتی رہو۔ عبداللہ کہتے تھے کہ وہ اس ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَقِيَتْ حَتَّى ذَكَرَ۔ اطرافه: ٣٨٧٤ ٥٨٢٣، ٠٥٨٤٥ ٥٩٩٣ وقت تک زندہ تھیں جب راوی نے ان کے لمبے عرصہ تک زندہ رہنے کا ذکر کیا۔