صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 415
صحيح البخاری جلده ۴۱۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير اموال غنیمت کی تقسیم سے قبل بھی لے سکتا ہے اور بعد میں بھی ۔ حضرت علی ور بعد میں بھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ، امام زہری اور عمر و بن دینار وغیرہ کے نزدیک ایسا مال اموال غنیمت کا حصہ ہے، بغیر تقسیم نہیں لیا جا سکتا۔ اس بارہ میں فقہاء کا ایک تیسر ا گر وہ بھی ہے جن میں حضرت عمر ، امام مالک اور امام احمد بن حنبل وغیرہ شامل ہیں کہ تقسیم نیمت سے قبل اگر مجاہد اپنا مال پالے تو اس کا ہے ورنہ اموال غنیمت کا حصہ ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام ثوری کی بھی یہی رائے ہے۔ لیکن ان دونوں نے غلام کو اس قاعدے سے مستثنیٰ رکھا ہے کہ قبضہ میں آنے پر اپنے آقا کا ہوگا۔ (فتح الباری جزء ۶ صفحه ۲۱۹) (عمدۃ القاری جزء ۵ صفحه ۲) وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ ۔۔۔ : عبد اللہ بن نمیر کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے موصولاً نقل کی ہے جی گھوڑے کا دشمن کے قبضہ میں چلے جانے کا واقعہ عہد نبوی کا ہے اور غلام کے بھاگنے کا واقعہ اس کے بعد کا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے گھوڑے کا واقعہ قبیلہ کے اور اس سے مقابلے کے وقت ہوا۔ گھوڑا بے قابو ہو گیا تھا جس سے وہ گر گئے تھے اور غلام کے بھاگنے کا واقعہ جنگ یرموک کا ہے ( فتح الباری جزء ۶ صفحه۱۸۲) (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحه ۲) قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَارَ مُشْتَقٌ ۔۔۔ : دوسری روایت میں امام بخاری نے لفظ عَارَ بمعنی هَرَبَ استعمال کر کے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ واقعہ الگ ہے۔ باب ۱۸۸ : مَنْ تَكَلَّمَ بِالْفَارِسِيَّةِ وَالرَّطَانَةِ جو فارسی یا کسی اور اجنبی زبان میں گفتگو کرے وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَاخْتِلَافُ اور اللہ عز وجل کا فرمانا: اور تمہاری زبانوں اور الْسِنَتِكُمْ وَا وَأَلْوَانِكُمْ (الروم: ۲۳) تمہارے رنگوں کا بھی اختلاف ہے۔ اور یہ فرمانا: وَقَالَ: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ اور ہر ایک رسول کو ہم نے اس کی قوم کی زبان میں ہی إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ (إبراهيم: ٥) ( وحی دے کر ) بھیجا ہے۔ ۳٠٧٠: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ ۳۰۷۰: عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ کہ ابو عاصم نے ہمیں بتایا۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِيْنَاءَ ہمیں خبر دی کہ سعید بن میناء نے ان کو بتایا، کہا: قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے میں نے (سنن ابی داود، كتاب الجهاد، باب في المال يصيبه العدو من المسلمين ثم يدركه صاحبه) سنن ابن ماجه، كتاب الجهاد، باب ما أحرز العدوّ ثم ظهر عليه المسلمون)