صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 414 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 414

صحيح البخارى جلده ۴۱۴ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير أَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّ عَبْدًا لِابْنِ عُمَرَ کی کہ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا۔حضرت ابن عمر کا أَبَقَ فَلَحِقَ بِالرُّوْمِ فَظَهَرَ عَلَيْهِ خَالِدُ ایک غلام فرار ہوگیا اور رومیوں کی طرف چلا گیا۔حضرت ابْنُ الْوَلِيدِ فَرَدَّهُ عَلَى عَبْدِ اللهِ وَأَنَّ خالد بن ولیڈ رومیوں پر غالب آئے اور انہوں نے فَرَسًا لِابْنِ عُمَرَ عَارَ فَلَحِقَ بِالرُّومِ حضرت عبد اللہ کو غلام واپس دلا دیا اور حضرت ابن عمر کا ایک گھوڑا بھاگ نکلا اور رومیوں کے لشکر میں جا پہنچا۔فَظَهَرَ عَلَيْهِ فَرَدُّوْهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ۔قَالَ پھر ( حضرت خالد بن ولیڈ ) ان پر غالب آئے اور انہوں أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَارَ مُشْتَقٌ مِنَ الْعَيْرِ نے وہ گھوڑا حضرت عبداللہ کو دے دیا۔ابوعبداللہ امام بخاری نے کہا: عَارَ ، غیر سے مشتق ہے اور وَهُوَ حِمَارُ وَحْشِ أَيْ هَرَبَ۔اطرافه: ٣٠٦٧، ٣٠٦٩ اس سے مراد جنگلی گدھا ہے یعنی جب وہ بھاگ جائے۔٣٠٦٩ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ :۳۰۶۹ احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مُّوْسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جس دن مسلمانوں کا (رومیوں سے) كَانَ عَلَى فَرَسٍ يَوْمَ لَقِيَ الْمُسْلِمُوْنَ مقابلہ ہوا، وہ گھوڑے پر سوار تھے۔ان دنوں حضرت وَأَمِيرُ الْمُسْلِمِيْنَ يَوْمَئِذٍ خَالِدُ بْنُ خالد بن ولید مسلمانوں کی فوج کے سردار تھے۔الْوَلِيدِ بَعَثَهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَهُ الْعَدُوُّ حضرت ابو بکڑ نے ان کو امیر بنا کر بھیجا تھا۔دشمن نے فَلَمَّا هُزِمَ الْعَدُوُّ رَدَّ خَالِدٌ فَرَسَهُ۔وہ گھوڑا پکڑ لیا۔جب دشمن کو شکست دے کر بھگا دیا گیا تو حضرت خالد نے ان کا گھوڑا واپس کر دیا۔اطرافة: ٣٠٦٧، ٣٠٦٨ تشریح : إِذَا غَنِمَ الْمُشْرِكُونَ مَالَ الْمُسْلِمِ ثُمَّ وَجَدَهُ الْمُسْلِمُ: یہ باب بھی ایک فقہی اختلاف کی وجہ سے قائم کیا گیا ہے کہ کیا جنگ میں مسلم سے چھینا ہوا مال غیر مسلم محارب کی ملکیت ہو جاتا ہے یا مسلم مجاہد کی ملکیت ہی قائم رہتی ہے اور اس بناء پر جب اس کو اس کا مال دوبارہ مل جائے تو کیا یہ مال اموال غنیمت کا حصہ ہوگا یا وہ اس مجاہد کا ہوگا جس سے لوٹا گیا تھا ؟ یہ وہ سوال ہے جس کی نسبت فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔امام شافعی اور ایک گروہ کی رائے ہے کہ دشمن کے قبضہ میں چلا جانے پر بھی مجاہد کی ملکیت قائم رہتی ہے اور جب دوبارہ ملے تو وہ