صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 413
صحیح البخاری جلده ۴۱۳ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ میں جہاں آپ نے حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا ، عمرہ کا احرام باندھا۔ اطرافه: ۱۷۷۸ ، ۱۷۷۹، 1780، 4148۔ تشريح : مَنْ قَسَمَ الْغَنِيمَةَ فِي غَزْوِهِ وَسَفَرِهِ : اس باب میں فقہا ء کو کارڈ مقصود ہے جو دار الحرب وفہ میں اموال غنیمت کی تقسیم جائز نہیں سمجھتے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اموال غنیمت پر مکمل طور پر تسلط ایسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ان اموال کو دارالاسلام میں لے آیا جائے اور وہاں تقسیم کیا جائے۔ جمہور کے نزدیک اس امر کا تعلق امام کی رائے سے ہے۔ موقع مناسب دیکھے تو فوراً تقسیم کر سکتا ہے اور اگر مناسب نہ سمجھے تو نہ کرے۔ ان کے نزدیک غنائم پر تسلط صرف مسلمانوں کا قبضہ ہو جانے سے ہی ہو جاتا ہے۔ دونوں باتیں مندرجہ بالا روایتوں سے ظاہر ہیں۔ حضرت رافع بن خدیج کی روایت کے لئے دیکھئے روایت نمبر ۳۰۷۵۔ نیز دیکھئے کتاب الذبائح، باب التسميه على الذبيحه - ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۲۱۸) بَاب ۱۸۷ : إِذَا غَنِمَ الْمُشْرِكُوْنَ مَالَ الْمُسْلِمِ ثُمَّ وَجَدَهُ الْمُسْلِمُ اگر مشرک، مسلمان کا مال لوٹ لیں پھر مسلمان اپنے مال کو پالے ٣٠٦٧ : وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ۳۰۶۷: ابن نمیر نے کہا کہ عبید اللہ نے ہمیں بتایا۔ عُبَيْدُ اللهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ ذَهَبَ فَرَسٌ لَّهُ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ان کا ایک گھوڑا نہیں فَأَخَذَهُ الْعَدُوُّ فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ چلا گیا اور دشمن نے اسے پکڑ لیا۔ پھر مسلمان ان پر فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُوْلِ اللَّهِ غالب آئے اور وہ گھوڑا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی میں انہیں دلایا گیا اور ان کا ایک غلام صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَقَ عَبْدٌ لَّهُ فرار ہو گیا اور رومیوں سے جا ملا۔ پھر مسلمان ان پر فَلَحِقَ بِالرُّوْمِ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ غالب آگئے آگئے اور وہ غلام پکڑا ا غلام پکڑا گیا ۔ ) حضرت خالد فَرَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ النَّبِيِّ بن ولیڈ نے وہ غلام ان کو واپس دلا دیا۔ یہ نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اطرافه: ٣٠٦٨، ٣٠٦٩۔ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا ذکر ہے۔ ٣٠٦٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۳۰۶۸: محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ یحی (قطان) حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبید اللہ (عمری) سے روایت