صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 412
صحيح البخاری جلده عن ۵۶ - كتاب الجهاد والسير عَنْ قَتَادَةَ قَالَ ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ انہوں نے کہا: عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حضرت انس بن مالک نے ہم سے ذکر کیا۔انہوں نے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابوطلحہ نے نبی كَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ صلى اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ جب آپ کسی قوم ثَلَاثَ لَيَالٍ۔تَابَعَهُ مُعَاذَ وَعَبْدُ الْأَعْلَى پر غالب ہوتے تو میدان میں تین دن اور تین راتیں حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ ٹھہرتے۔روح بن عبادہ کی طرح معاذ اور عبدالاعلیٰ نے عَنْ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله بھی یہی روایت بیان کی۔(ان دونوں نے کہا ) سعید عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔نے ہم سے بیان کیا۔سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس سے حضرت انس نے حضرت ابوطلحہ سے، حضرت ابوطلحہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔طرفه: ٣٩٧٦۔تشریح : مَنْ غَلَبَ الْعَدُوَّ فَأَقَامَ عَلَى عَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا: فتح کے بعد میدان جنگ میں استحکام کی غرض سے قیام ضروری ہوتا ہے۔حربی نقطہ نگاہ کی رو سے بھی ضروری ہے کہ گردو پیش کے حالات کا پورا پورا جائزہ لینے کے بعد کوچ کیا جائے۔بَاب ١٨٦ : مَنْ قَسَمَ الْغَنِيْمَةَ فِي غَزْوِهِ وَسَفَرِهِ جو شخص اپنے سفر اور حملے میں غنیمت تقسیم کرے وَقَالَ رَافِعٌ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله اور حضرت رافع ( بن خدیج) کہتے تھے کہ ذوالحلیفہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأَصَبْنَا غَنَما میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم نے وَإِبِلًا فَعَدَلَ عَشَرَةً مِّنَ الْغَنَمِ بِبَعِيْرٍ۔کچھ بکریاں اور اونٹ غنیمت میں پائے تو آپ نے دس بکریاں ایک اونٹ کے برابر قرار دیں۔٣٠٦٦ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا :۳۰۶۶: بدیبہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ قَالَ ( بن يحي ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی کہ حضرت انس نے انہیں خبر دی، کہا: نبی