صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 23
صحيح البخاری جلده ۲۳ ۵۳ - کتاب الصلح فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ يا رسول اللہ ! میں ہوں اور جو کچھ وہ چاہتا ہے میں اُس أَحَبَّ۔أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِي مَالٌ فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ کے لئے کئے دیتا ہوں۔٢٧٠٦: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :٢٧٠٦ یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ جَعْفَرِ بْن رَبِيعَةَ عَنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، جعفر الْأَعْرَجِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نے اعرج سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عبداللہ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ بن كعب بن مالک نے مجھے بتایا۔حضرت کعب بن مالک سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی حد رڈ اسلمی کے ذمہ اُن کا کچھ قرضہ تھا۔وہ اُن سے ملے اور اُن سے چمٹ گئے۔یہاں تک کہ دونوں کی آوازیں بلند حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَمَرَّ بِهِمَا ہوئیں۔اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُن کے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا پاس سے گزرے اور آپ نے فرمایا: کعب! اور اپنے كَعْبُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُوْلُ النِصْفَ ہاتھ سے اشارہ کیا جیسے کوئی کہتا ہے آدھا چھوڑ دو۔فَأَخَذَ نِصْفَ مَا لَهُ عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا چنانچہ حضرت کعب نے جو عبد اللہ کے ذمہ تھا، اُس کا آدھا لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔اطرافه ،٤٥٧، ٤٧١، ٢٤۱۸، ٢٤٢٤، ٢٧١٠ تشریح : هَلْ يُشِيرُ الْإِمَامُ بِالصُّلح: حدود کے متعلق تو کوئی قاضی شریعت کے منشاء کے خلاف دخل نہیں دے سکتا، مگر حقوق سے متعلق تنازعات میں جہاں صلح کے امکانات ہوں وہاں وہ نیک مشورہ دے سکتا ہے۔اسی غرض سے یہ باب قائم کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کیا گیا ہے۔اس بارہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔مالکی تو قاضی یا حاکم وقت کی مداخلت جائز نہیں سمجھتے لیکن جمہور کے نزدیک قاضی بغرض مصالحت مشورہ دے سکتا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۷۸) یہی اختلاف مدنظر رکھتے ہوئے عنوانِ باب بصورت استفتاء حرف استفہام سے شروع کیا گیا ہے۔روایت زیر باب کے لئے کتاب الصلاۃ باب اے روایت نمبر ۴۵۷ دیکھئے۔اَيْنَ الْمُتَالِى عَلَى اللَّهِ لَا يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ سے قرض خواہ سمجھ گیا کہ آپ کو تکلیف ہوئی ہے کہ نیکی نہ کرنے میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی گئی ہے جو نا پسندیدہ بات ہے۔اس لئے اُس نے فوراً کہا: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ وَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ اَحَبَّ جور تم یہ چاہے، دے۔مجھے منظور ہے۔