صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 408
صحيح البخاری جلده ل ٧٠ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير مومن تشريح : كِتَابَةُ الإِمَامِ النَّاسَ : ایمان باند اگر بات ہوتو من آیت لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ بالله teen (یونس : ۶۳) کا مصداق ہوتا ہے۔ صحابہ کرام پانچ چھ سو کی تعداد پر خوش ہیں اور یقین کئے ہوئے ہیں کہ اب انہیں کسی دشمن کا ڈر نہیں۔ ان کے نزدیک یہ تعداد سارے عرب و عجم کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی ہے اور آج عالم اسلام کی کیا حالت ہے۔ وہ ہر جگہ اپنے دشمنوں سے خائف وترساں ہیں۔ حالانکہ ان کی تعداد کروڑوں ہے۔ عنوانِ باب کا تعلق مردم شماری سے ہے۔ اور اس کی پہلی روایت میں اسی کا ذکر ہے اور دوسری روایت کا تر سی کا ذکر ہے اور دوسری روایت کا تعلق جہاد فی سبیل اللہ کے لئے نام لکھوانے سے ہے۔ پہلی روایت میں جو بظاہر اختلاف ہے اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ مختلف موقعوں پر مردم شماری کرائی گئی ہو۔ جیسا کہ ہ صد تھی اور داودی کا خیال ہے ۔ مگر امام ابن حجر نے یہ توجیح بھی بیان کی ہے کہ کل تعداد عورتیں اور بچے شا اور بچے شامل کر کے پندرہ صدا لڑنے والے پانچ سو سے سات سو تک ۔ حضرت امام بخاری نے پہلی روایت مقدم کی ہے کہ وہ سفیان ثوری سے مروی ہے جن کا حافظہ ابو معاویہ کی نسبت زیادہ قوی تھا۔ (فتح الباری جزء ۶ صفحه ۲۱۵،۲۱۴) اس تعلق میں کتاب المغازی، باب غزوہ حدیبیہ بھی دیکھئے۔ باب ۱۸۲ : إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ الدِّيْنَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ اللہ کبھی فاجر شخص کے ذریعہ دین کی تائید کرتا ہے ٣٠٦٢ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۳۰۶۲: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ ح وَحَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ (دوسری سند ) اور محمود بن غیلان نے بھی مجھ سے بیان أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ کیا کہ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ سے، الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابن مسیب قَالَ شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله ابن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يَدَّعِي ساتھ ایک جنگ میں) تھے۔ آپ نے ایک شخص کے الإِسْلَامَ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا حَضَرَ متعلق جو اسلام کا دعوی کرتا تھا فرمایا: یہ دوزخیوں میں الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِيدًا سے ہے۔ جب مقابلے کا موقع آیا تو وہ سختی سے لڑا اور فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَقِيْلَ يَا رَسُوْلَ اللهِ اس کو زخم لگے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! وہ شخص الَّذِي قُلْتَ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَإِنَّهُ قَاتَلَ جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخیوں میں