صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 408
صحيح البخاری جلده تشریح ۴۰۸ ۵۶- كتاب الجهاد والسير كِتَابَةُ الْإِمَامِ النَّاسَ : ایمان بالله اگر پختہ ہو تو مومن آیت لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (یونس: ۶۳) کا مصداق ہوتا ہے۔صحابہ کرام پانچ چھ سو کی تعداد پر خوش ہیں اور یقین کئے ہوئے ہیں کہ اب انہیں کسی دشمن کا ڈر نہیں۔ان کے نزدیک یہ تعداد سارے عرب و عجم کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی ہے اور آج عالم اسلام کی کیا حالت ہے۔وہ ہر جگہ اپنے دشمنوں سے خائف و ترساں ہیں۔حالانکہ ان کی تعداد کروڑوں ہے۔عنوانِ باب کا تعلق مردم شماری سے ہے۔اور اس کی پہلی روایت میں اسی کا ذکر ہے اور دوسری روایت کا تعلق جہاد فی سبیل اللہ کے لئے نام لکھوانے سے ہے۔پہلی روایت میں جو بظاہر اختلاف ہے اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مختلف موقعوں پر مردم شماری کرائی گئی ہو۔جیسا کہ داوری کا خیال ہے۔مگر امام ابن حجر نے یہ توجیح بھی بیان کی ہے کہ کل تعداد عورتیں اور بچے شامل کر کے پندرہ صد تھی اور لڑنے والے پانچ سو سے سات سو تک۔حضرت امام بخاری نے پہلی روایت مقدم کی ہے کہ وہ سفیان ثوری سے مروی ہے جن کا حافظہ ابومعاویہ کی نسبت زیادہ قوی تھا۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۲۱۵،۲۱۴) اس تعلق میں کتاب المغازی، باب غزوہ حدیبیہ بھی دیکھئے۔بَاب ۱۸۲ : إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ الدِّيْنَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ اللہ کبھی فاجر شخص کے ذریعہ دین کی تائید کرتا ہے ٣٠٦٢ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۳۰۶۲ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيّ ح وَحَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ (دوسری سند اور محمود بن غیلان نے بھی مجھ سے بیان أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِي عَنِ ابْنِ کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابن مسیب سے، ابن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت قَالَ شَهِدْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ کی۔حضرت ابوہریرہ نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يَّدَّعِي ساتھ ایک جنگ میں ) تھے۔آپ نے ایک شخص کے ( الإِسْلَامَ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا حَضَرَ متعلق جو اسلام کا دعوی کرتا تھا فرمایا: یہ دوزخیوں میں الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِيدًا سے ہے۔جب مقابلے کا موقع آیا تو وہ جنتی سے لڑا اور فَأَصَابَتْهُ حِرَاحَةٌ فَقِيْلَ يَا رَسُوْلَ اللهِ اس کو زخم لگے۔لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! وہ شخص الَّذِي قُلْتَ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَإِنَّهُ قَاتَلَ جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخیوں میں