صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 409 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 409

صحيح البخاری جلده ۴۰۹ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير صلى الله الْيَوْمَ قِتَالًا شَدِيدًا وَقَدْ مَاتَ فَقَالَ سے ہے وہ آج خوب لڑا اور مر گیا ہے۔ نبی ﷺ نے النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّارِ فرمایا: دوزخ ہی کو سدھارا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے قَالَ فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يَرْتَابَ تھے: یہ سن کر قریب ہی تھا کہ بعض لوگ شک میں فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ قِيْلَ إِنَّهُ لَمْ پڑ جائیں۔ اسی اثناء میں کہ وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ يَمُتْ وَلَكِنَّ بِهِ جِرَاحًا شَدِيدًا فَلَمَّا کسی نے کہا: وہ مرا نہیں بلکہ اس کو سخت زخم لگے ہیں۔ رات ہوئی تو وہ زخموں کی تکلیف برداشت نہ كَانَ مِنَ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى الْجِرَاحِ جب رات ہوا کر سکا اور اس نے خود کشی کر لی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اس کے متعلق خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا: اللہ اکبر میں اقرار کرتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُوْلُهُ ثُمَّ أَمَرَ پھر آپ نے حضرت بلال کو حکم دیا اور انہوں نے بِلَالًا فَنَادَى بِالنَّاسِ إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ لوگوں میں یہ منادی کی : یاد رکھو جنت میں کوئی داخل الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُّسْلِمَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ نہیں ہوگا مگر وہی نفس جو فرمانبردار و اور اللہ کبھی اپنے هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ۔ دین کی فاجر کے ذریعہ بھی تائید فرماتا ہے۔ اطرافه: ٤۲۰۳، ٤٢٠٤، ٦٦٠٦۔ : یہ ہے کہ وہ اپنی مہمات میں مختلف استعداد تشريح : إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الفاجر امام کام کا ہے کہ اپنی مہات : الیہ و طبائع رکھنے والے لوگوں سے کام لے۔ آ گوں سے کام لے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نور فراست سے دیکھا کہ مشارا شخص کام کا ہے اور اسے جنگ میں شریک ہونے دیا اور آپ کو اس کے بارے میں مکاشفہ ہوا کہ اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ بعض روایتوں میں اس کا نام قزمان ابوالغیداق بتایا گیا ہے۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب المغازی باب ۳۹: غزوة خيبر - جہاں تفصیل سے یہ روایت آتی ہے۔ بَاب ۱۸۳ : مَنْ تَأَمَّرَ فِي الْحَرْبِ مِنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ إِذَا خَافَ الْعَدُوَّ جو شخص لڑائی میں بغیر اس کے کہ وہ امیر مقرر کیا گیا ہو (امیر کی عدم موجودگی میں ) خود بخود امیر بن جائے ( یہ جائز ہے ) اگر اسے دشمن کا خوف ہو ٣٠٦٣: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ ۳۰۶۳: یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ که اسماعیل بن ابراہیم ) ابن علیہ نے ہمیں بتایا۔