صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 406 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 406

صحيح البخاری جلده ۴۰۶ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ أَفَتَارِ كُهُمْ أَنَا لَا أَبَا لَكَ پاس اپنے بچوں کو لائے گا اور کہے گا: امیر المؤمنین ! فَالْمَاءُ وَالْكَلَةُ أَيْسَرُ عَلَيَّ مِنَ الذَّهَبِ ( ان کو پالو ) تیرا باپ نہ رہے تو کیا میں ان کو بھوکا وَالْوَرِقِ وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنِّي قَدْ چھوڑ دوں گا ؟ دیکھنا گھاس اور پانی دینا مجھ پر سونے ظَلَمْتُهُمْ إِنَّهَا لَبِلَادُهُمْ فَقَاتَلُوْا عَلَيْهَا اور چاندی کے دینے سے زیادہ آسان ہے اور بخداوہ تو یہی سمجھیں گے کہ میں نے ان پر ظلم کیا۔یہ ان کی الْجَاهِلِيَّةِ وَأَسْلَمُوْا عَلَيْهَا فِي بستیاں ہیں جن کی وجہ سے وہ جاہلیت میں لڑتے و الْإِسْلَامِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا رہے اور انہی کو بچانے کے لئے وہ اسلام میں داخل الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ ہوئے اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری مَا حَمَيْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ بِلَادِهِمْ شِبْرًا جان ہے اگر یہ مویشی نہ ہوتے جن پر اللہ کی راہ میں (مجاہدین کو ) سوار کرتا ہوں تو میں ان کی جائیدادوں میں سے ایک بالشت زمین بھی محفوظ نہ رکھتا۔تشریح إِذَا أَسْلَمَ قَوْمٌ فِي دَارِ الْحَرْبِ۔۔۔: دونوں ابواب ( نمبر ۱۸۰،۱۷۹) کا موضوع ایک ہی ہے۔مقبری کی روایت کے حوالے کے لئے دیکھئے کتاب الجزیہ، باب ۶ روایت نمبر ۳۱۶۷۔باب ۱۷۹ کا تعلق اسلام قبول کرنے سے یا نہ کرنے سے نہیں۔یہ مضمون زیر باب ۴۵ اگزر چکا ہے۔باب ۱۸۰ سے بعض احناف کی رائے کارڈ مقصود ہے۔جن کے نزدیک حربی مغلوب جب مسلمان ہو جائے تو اس کی زمین و جائیداد غیر منقولہ مسلمانوں کی ملکیت ہوگی ، اس کے سوا باقی جائیداد اس کی ہوگی۔امام ابو یوسف نے اس فریق کے خلاف رائے دی ہے اور جمہور کے مذہب کی تائید کی ہے۔امام احمد بن حنبل نے صحر بن عیلہ بجلی کی روایت نقل کی ہے کہ قبیلہ بنوسیم کے بعض لوگ ایک غزوہ میں اپنا علاقہ خالی کر گئے تھے۔پھر جب وہ مسلمان ہوئے تو انہوں نے اپنی زمینوں کا مطالبہ کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور معاملہ پیش ہونے پر آپ نے ان کے حق میں فیصلہ فرمایا ہے (فتح الباری جز ء۶ صفحہ۲۱۱) اور یہود کو بھی بنائی کے طریق پر ان کی زمینوں اور باغات میں انہیں رہنے دیا، جب تک وہ صلح و امن سے رہیں۔بَاب ۱۸۱ : كِتَابَةُ الْإِمَامِ النَّاسَ امام کا لوگوں کے نام لکھنا ٣٠٦٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۳۰۶۰: محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَن الْأَعْمَشِ عَنْ کیا کہ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حمد (مسند احمد بن حنبل، مسند الكوفيين، حديث صخر بن عيلة، جزءم صفحه ۳۱۰)