صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 405 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 405

صحيح البخارى جلده ۴۰۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير غَدًا فِي حَجَّتِهِ قَالَ وَهَلْ تَرَكَ لَنَا اتریں گے؟ آپ نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لئے عَقِيْلٌ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ نَحْنُ نَازِلُوْنَ غَدًا کوئی ٹھکانا چھوڑا ہے؟ پھر آپ نے فرمایا: ہم کل بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ الْمُحَصَّبِ حَيْثُ خيف بنی کنانہ یعنی محصب میں اتریں گے۔جہاں قریش بنی قَاسَمَتْ قُرَيْسٌ عَلَى الْكُفْرِ وَذَلِكَ أَنَّ نے کفر پر رہنے کی قسمیں کھائی تھیں اور یہ واقعہ یوں ہوا تھا کہ بنی کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي عہد و پیمان کیا تھا کہ نہ وہ ان سے خرید وفروخت کریں هَاشِمٍ أَنْ لَّا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يُؤْوُوْهُمْ کے اور نہ انہیں اپنے گھروں میں آنے دیں گے۔قَالَ الزُّهْرِيُّ وَالْخَيْفُ الْوَادِي۔زہری نے کہا اور خیف وادی کو کہتے ہیں۔اطرافة ١٥٨٨، ٤٢٨٢، ٦٧٦٤ - ٣٠٥٩ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ ۳۰۵۹: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ کہا: مالک نے مجھے بتایا۔مالک نے زید بن اسلم سے، أَبِيْهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ الله زید نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن عَنْهُ اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُدْعَى هُنَيًّا خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام کو جسے ہنیا کہا عَلَى الْحِمَى فَقَالَ يَا هُنَيُّ اضْمُمُ کرتے تھے (سرکاری ) رکھ پر محافظ مقرر کیا اور اس جَنَاحَكَ عَنِ الْمُسْلِمِيْنَ وَاتَّقِ دَعْوَةَ سے کہا: نیا مسلمانوں سے اپنا باز و سمیٹے رکھنا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا۔کیونکہ مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے الْمُسْلِمِيْنَ* فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُوم اور تھوڑی سی اونٹنیوں والے اور تھوڑی سی بکریوں والے مُسْتَجَابَةٌ وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ کو رکھ میں آنے دینا اور میری ناراضگی سے بچنا اور وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ وَإِيَّايَ وَنَعَمَ ابْنِ عَوْفٍ ( عبد الرحمن بن عوف اور ( عثمان بن عفان کے وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِكُ جانوروں کو نہ چرنے دینا۔کیونکہ (وہ دونوں امیر ہیں) مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَا إِلَى نَخْلِ وَزَرْعٍ اگر ان کے جانور مر بھی جائیں تو وہ نخلستانوں اور کھیتوں وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ إِنْ سے کام چلا سکتے ہیں اور تھوڑی سی اونٹیوں والا یا تھوڑی تَهْلِكُ مَاشِيَتُهُمَا يَأْتِنِي بِبَنِيْهِ فَيَقُولُ يَا کی بکریوں والا اگر اس کے مویشی مرگئے تو میرے ہ اسماعیلی کی روایت کے مطابق اس جگہ المظلوم ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۲۱۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔