صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 404
حيح البخارى جلده ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنِّي أُنْذِرُ كُمُوهُ ہے اور دجال کا ذکر کیا اور فرمایا : میں بھی تم کو اس کے وَمَا مِنْ نَبِي إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ خطرہ سے آگاہ کرتا ہوں اور کوئی ایسا نبی نہیں جس نے أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلَكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ اپنی قوم کو اس کے خطرہ سے آگاہ نہ کیا ہو۔نوح نے فِيْهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ بھی اپنی قوم کو اس کے خطرہ سے خبر دار کیا تھا۔مگر میں تمہیں اس کے متعلق ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ۔نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی۔تمہیں یہ علم ہے کہ وہ یک چشم ہے اور اللہ ایسا نہیں۔اطرافه: ۳۳۳۷، ۳٤٣٩، ٤٤۰۲، ٦١٧٥، ۷۱۲۳، ۷۱۲۷، ٧٤٠٧۔تشریح: كَيْفَ يُعْرَضُ الْإِسْلَامُ عَلَى الصَّبِيِّ : اس تعلق میں دیکھئے کتاب الجنائز باب۷۹۔دجال کے تعلق میں یہی روایت کتاب الفتن میں آئے گی۔دیکھئے باب ذکر الدجال۔بَاب ۱۷۹ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْيَهُوْدِ أَسْلِمُوْا تَسْلَمُوْا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہودیوں سے فرمانا: اسلام قبول کر لو سلامتی میں رہو گے قَالَهُ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ۔مقبری نے یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ سے نقل کی ہے۔باب ۱۸۰ إِذَا أَسْلَمَ قَوْمٌ فِي دَارِ الْحَرْبِ وَلَهُمْ مَالٌ وَأَرَضُونَ فَهِيَ لَهُمْ اگر کچھ لوگ دار الحرب میں مسلمان ہو جائیں اور ان کی جائیداد اور زمینیں ہوں تو وہ انہی کی رہیں گی ٣٠٥٨ : حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ أَخْبَرَنَا :۳۰۵۸ محمود ( بن غیلان ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِي عِبدالرزاق نے ہمیں بتایا معمر نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔زہری نے علی بن حسین سے، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو علی نے عمرو بن عثمان بن عفان سے، عمرو نے حضرت ابْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ أَسَامَةَ بْنِ اسامہ بن زیڈ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے میں نے زَيْدٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ پوچھا: یا رسول اللہ ! آپ کل اپنے حج کے اثناء میں کہاں نا فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ عبد الرزاق ہے (فتح الباری جزء 4 حاشیہ صفحہ ۲۱ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔