صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 402
صحيح البخاری جلده م ۵۶ - كتاب الجهاد والسير صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ جماعت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت حَتَّى وَجَدُوْهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ میں ابن صیاد کی طرف گئے۔انہوں نے بنی مغالہ کے مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ يَوْمَئِذٍ محلوں کے پاس اسے لڑکوں کے ساتھ کھیلتے پایا اور ان أُطْمِ بَنِي ابْنُ صَيَّادٍ يَحْتَلِمُ فَلَمْ يَشْعُرْ بِشَيْءٍ دِنوں ابن صیاد بلوغت کے قریب تھا۔اسے اسی وقت حَتَّى ضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ معلوم ہوا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیٹھ پر ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا: کیا تم اقرار کرتے ہو کہ میں اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا اور فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ کہا: میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ آپ اُمیوں کے رسول رَسُوْلُ الأُمِّيِّينَ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ ہیں۔ابن صیاد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي کیا آپ اقرار کرتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رَسُوْلُ اللهِ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ اور اس کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهِ قَالَ سب رسولوں پر ایمان لایا ہوں اور فرمایا تم کیا دیکھتے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا ہو؟ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس کچی اور جھوٹی تَرَى قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ خبریں آتی ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصل وَ كَاذِبٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حقیقت تم پر مشتبہ ہوگئی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ خُلِطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ قَالَ النَّبِيُّ فرمایا: میں نے تمہارے لئے ایک بات چھپائی ہے۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ ابن صیاد نے کہا: وہ دُخ ہی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم لَكَ خَبِيْئًا قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُ نے فرمایا: چل دور ہو تم اپنی بساط سے آگے نہیں قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بڑھ سکو گے۔حضرت عمرؓ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! آپ احْسَأَ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ قَالَ عُمَرُ اجازت دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں۔نبی يَا رَسُوْلَ اللهِ انْذَنْ لِي فِيْهِ أَضْرِبْ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ وہی (دجال) ہوا