صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 22 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 22

صحيح البخارى جلده تشریح: - ۲۲ ۵۳ - کتاب الصلح هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيْمَتَيْنِ : حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے دو مسلمان جماعتوں کے درمیان صلح کی پیشگوئی کا واقعہ تاریخ اسلامی میں مشہور ہے۔عنوانِ باب میں اس کا حوالہ دے کر اس کے ذیل میں جنگ سے متعلقہ روایت نقل کی ہے اور قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیا ہے۔اس مضمون کے لیے بابا کی تشریح بھی دیکھئے۔آنحضرت علیہ کے زمانہ میں تو ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا جس میں دو گروہ مسلمانوں کے آپس میں برسر پیکار ہوئے ہوں۔مگر آپ کی پیشگوئی کے مطابق آپ کے نواسے کو توفیق ملی کہ قرآن مجید کے محولہ بالا حکم کو عملی جامہ پہنا ئیں۔اس واقعہ کی تفصیلات کے لئے کتاب الفتن باب ۲۰ روایت نمبر ۷۱۰۹ دیکھئے۔بَاب ۱۰ : هَلْ يُشِيْرُ الْإِمَامُ بِالصُّلْحِ؟ کیا امام صلح کرنے کے لئے اشارہ کرے؟ ٢٧٠٥: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي :۲۷۰۵ اسماعیل بن ابی اولیس نے ہم سے بیان أُوَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ کیا، کہا: میرے بھائی (عبدالحمید ) نے مجھے بتایا۔عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الرِّجَالِ انہوں نے سلیمان ( بن بلال) سے سلیمان نے سیکی مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَن أَنَّ أُمَّهُ عَمْرَةَ بن سعید سے سجی نے ابوالرجال محمد بن عبدالرحمن بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ سَمِعْتُ سے روایت کی کہ اُن کی ماں عمرہ بنت عبدالرحمن نے عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُوْلُ سَمِعَ کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پر بعض جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی۔دونوں کی صَوْتَ خُصُوْمِ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔اتنے میں دونوں میں سے أَصْوَاتُهُمْ وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ ایک دوسرے سے کچھ قرضہ چھوڑنے اور نرمی کرنے الْآخَرَ وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ وَهُوَ کے لئے کہ رہا تھا اور دوسرا کہ رہا تھا: اللہ کی قسم ! میں يَقُولُ وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا نہیں چھوڑوں گا۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اُن کے پاس باہر گئے اور پوچھا: وہ کہاں ہے جو اللہ کی أَيْنَ الْمُتَأَتِي عَلَى اللهِ لَا يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ قسم کھا رہا تھا کہ وہ نیکی نہیں کرے گا؟ اُس نے کہا: عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ " أَصْوَاتُهُمَا“ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۳۰ صفحہ ۲۸۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔