صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 400
صحيح البخارى جلده ۴۰۰ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير تشریح أخْرِجُوُا الْمُشْرِكِيْنَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ : بعض شارحین نے کہا ہے کہ جزیرہ عرب سے مراد وہ علاقہ جات ہیں جو بحر ہند، بحیرہ قلزم بحیرہ عرب اور خلیج فارس اور سواحل حبشہ کے درمیان ہیں۔لیکن جمہور کے نزدیک حکم اخراج المشرکین کا تعلق صرف ارضِ حجاز سے ہے جس میں مکہ و مدینہ و یمامہ اور اس کے مضافات ہیں۔مقام عرج اس علاقہ کا حصہ ہے جسے تہامہ (بیٹ) کہتے ہیں۔یہ وہ عرج نہیں جو طائف میں واقعہ ہے۔امام مالک نے حرم میں بھی تجارتی اغراض سے مشرکین کا آنا جانا جائز قرار دیا ہے اور امام شافعی نے ان کی تائید اس شرط کے ساتھ کی ہے کہ امام کی اجازت سے وہ آجا سکتے ہیں۔احناف نے سوائے بیت اللہ کے مشرکین کے لئے آمدورفت کی عام اجازت دی ہے۔بعض فقہاء نے یمن کو محفوظ علاقے سے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صرف ارضِ حجاز سے مراد مخصوص علاقہ ہے جس میں مکہ و مدینہ اور یمامہ واقعہ ہے۔( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۲۰۵ ۲۰۶) وَقَالَ يَعْقُوبُ۔۔۔: ان سے مراد یعقوب بن محمد بن عیسی ہیں۔ان کی یہ روایت احکام القران میں آتی ہے۔جو اسماعیل قاضی کی تالیف ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء 4 صفحہ ۲۰۵، عمدۃ القاری جزء۱۴ صفحه ۳۰۰۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ بالا ارشاد عقائد دینیہ کی حفاظت کے لئے تھا۔چنانچہ مشار الیہ علاقہ ارض حجاز اب تک ان بدعتوں سے محفوظ ہے جو عالم اسلام کے باقی ممالک میں رائج ہیں اور عقیدہ توحید ارض حجاز میں اپنی شکل میں بحال ہے۔اگر کسی وقت بدعت کی کوئی صورت پیدا ہوئی تو کسی نہ کسی تحریک سے وہ بدعت مٹادی گئی۔بَاب ۱۷۷ : اَلتَّجَمُّلُ لِلْوُفُوْدِ نمائندوں سے ملنے کے لئے آراستہ ہونا ٣٠٥٤: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۳۰۵۴ مکی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ہمیں بتایا۔انہوں نے تحصیل سے تعقیل نے ابن شہاب عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے روایت کی رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ وَجَدَ عُمَرُ حُلَّةَ که حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت عمرؓ نے إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوْقِ فَأَتَى بِهَا بازار میں ایک ریشمی جوڑا ( چادر اور تہہ بند ) بکتے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دیکھا اور وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْتَعْ هَذِهِ الْحُلَّةَ لے آئے اور کہنے لگے : یارسول اللہ ! یہ جوڑ خرید لیں فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيْدِ وَلِلْوَفْدِ فَقَالَ اور عید کے موقعہ پر اور نمائندوں سے ملنے کے لئے رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زیب تن فرمایا کریں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے