صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 398 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 398

صحیح البخاری جلده ۳۹۸ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير قَالَ وَأُوصِيْهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُوْلِهِ سے روایت کی کہ انہوں نے بوقت وفات کہا: میں اس کو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوَفَّى (جو میرے بعد خلیفہ ہو) اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی ذمہ داری کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان (ذمیوں ) لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ سے ان کا وہ عہد پورا کیا جائے (جو ان سے کیا گیا ہے ) اور ان کو بچانے کے لئے دشمنوں سے جنگ کی جائے اور وَلَا يُكَلَّفُوْا إِلَّا طَاقَتَهُمْ۔ اطرافه ۱۳۹۲، ۳۱۶۲، ۳۷۰۰، ٤٨٨٨، ۷۲۰۷۔ اُن سے اتنا ہی کام لیا جائے جتنا وہ برداشت کر سکیں۔ تشريح : يُقَاتَلُ عَنْ أَهْلِ الذَّمَّةِ: زمیوں کی حفاظت سلامتی کے بارے میں اہل اسلام کی ذمہ داری سے متعلق جمہور کا اتفاق ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت ہے کہ ان سے شفقت کا سلوک کیا جائے اور وہ غلام نہ بنائے جائیں۔ وَلا يُسْتَرَقُونَ : عنوان باب میں فقرہ وَلا يُسْتَرَقُونَ کے بڑھانے کی کیا وجہ ہے؟ امام ابن حجر کے نزدیک ابن قاسم کے قول کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اگر حربی ذمی کو قید کر لیں اور پھر وہ ذمی جنگ میں مسلمانوں کی قید میں آ جائے تو اس صورت میں اس سے حربیوں کا سلوک ہوگا ۔ مذکورہ بالا فقرے سے یہ رائے رڈ کی گئی ہے۔ بَاب ١٧٥ : جَوَائِزُ الْوَفْدِ ایلچیوں کو عطیہ دینا ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۲۰۴) تشریح : عنوان بغیر کسی روایت کے ہے۔ اس حلق میں اگلے اب کی را ی روایت کے ہے۔ اس تعلق میں اگلے باب کی روایت (نمبر ۳۰۵۳) بھی دیکھئے۔ جہاں آ رت صلی اللہ علیہ و : کہ جوا ان سے ایسا ہی سلوک کرتے رہنا جیسے میں کرتا رہا ہوں۔ اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ نمائندگان قوم کو انعام و اکرام سے نوازتے رہتے تھے۔ یہ باب اگلے باب سے وابستہ کیا گیا ہے۔ بَاب ١٧٦ : هَلْ يُسْتَشْفَعُ إِلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ وَمُعَامَلَتِهِمْ کیا ذمی کافروں کی اور ان کے معاملے کی سفارش (امام سے ) کی جائے ٣٠٥٣ : حَدَّثَنَا قَبِيْصَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ ۳۰۵۳: قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ عُيَيْنَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ سَعِيدِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان احول سے سلیمان