صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 397
صحيح البخاری جلده ۳۹۷ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرنے لگا۔ پھر واپس چلا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اطْلُبُوهُ وَاقْتُلُوهُ فَقَتَلْتُهُ فَنَفَّلَهُ فرمایا: اس کا پیچھا کرو اور اسے قتل کر دو۔ (حضرت سلمہ نے کہا : ) چنانچہ میں نے اس کو قتل کر دیا۔ آنحضرت سَلَبَهُ۔ نے حضرت سلمہ کو اس کا سامان دلایا۔ تشريح الحربي حَرْبِيُّ إِذَا دَخَلَ دَارَ الْإِسْلَامِ بِغَيْرِ أَمَانِ: معنونہ مسئلہ سے متعلق فقہاء کا اختلاف ہے کہ اگر حربی ( برسر پیکار قوم کا فرد بغیر امان حاصل کئے دارالاسلام میں داخل ہو تو کیا وہ جاسوسی کے شبہ میں قتل کیا جائے یا قبضہ میں رکھا جائے ؟ امام مالک کی رائے ہے کہ امام کو اس بارہ میں فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔ امام شافعی اور امام اوزاعی کے نزدیک اگر وہ کہے کہ بطور ا پیچی آیا ہوں تو اس کی یہ بات قبول کی جائے گی ۔ امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبل اس کے خلاف ہیں۔ ان کی رائے میں وہ مال فئے کی طرح ہے، اسے قبضہ میں رکھیں ، پیچیں یا اس سے کام لیں۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۲۰۲) روایت مندرجہ سے ظاہر ہے کہ اگر جنگی حالات میں حربی بغیر اجازت دار الاسلام میں داخل ہوا ہو تو اس پر غالب شبہ یہی ہے کہ وہ حالات معلوم کرنے کی غرض سے آیا ہے اور اس کے ساتھ جاسوں کا سلوک کیا جائے گا۔ آج کل بھی یہی قانون رائج ہے کہ جاسوس ثابت ہونے پر گولی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تا ایک شخص کی ہلاکت سے ملک ہلاکت سے محفوظ رہے اور دوسروں کے لئے عبرت ہو اور دشمن کو امن بر باد کرنے کے لئے ملک میں داخل ہونے کی جسارت نہ ہو ۔ واقعہ مذکورہ میں ثابت ہو گیا تھا کہ وہ شخص حربی جاسوس ہے، بغیر اجازت آیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی باتیں سن کر چپکے سے غائب ہو گیا اور گرفتار ہونے پر قتل کر دیا گیا تا وہ دشمن کو اطلاع نہ دے سکے۔ اس کی نقل و حرکت کی نگرانی کی گئی تھی۔ وہ ادھر اُدھر چکر لگا کر حالات معلوم کرتا رہا تھا۔ جس کی اطلاع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جا چکی تھی۔ فَقَتَلْتُهُ فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ : حضرت ابن اکوع کا یہ بیان غایت درجہ مختصر ہے اور اس میں ضمیر متکلم سے ضمیر غائب کی طرف التفات ہے۔ نفلہ کا فاعل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ یعنی جاسوس کا مال و متاع انہیں عطا کیا۔ بَاب ١٧٤ : يُقَاتَلُ عَنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَلَا يُسْتَرَقُوْنَ ذمی ( کافروں) کو بچانے کے لئے لڑنا اور ان کو غلام لونڈی نہ بنایا جائے ٣٠٥٢ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۳۰۵۲: موسی بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْنِ عَنْ عَمْرِو نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین (بن عبدالرحمن) سے، الله ابْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حصین نے عمرو بن میمون سے، عمرو نے حضرت عمر نے