صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 391 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 391

صحیح البخاری جلده ۳۹۱ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير فَوَاللَّهِ لَا أُنْزِلُ الْيَوْمَ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ متعلق خبر دے۔ ان لوگوں نے ان پر تیر چلائے اور عاصم اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ فَرَمَوْهُمْ بِالنَّبْلِ کو سات آدمیوں سمیت مار ڈالا۔ یہ دیکھ کر تین آدمی فَقَتَلُوْا عَاصِمًا فِي سَبْعَةٍ فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ عہد و پیمان پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے پاس نیچے آگئے۔ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ بِالْعَهْدِ وَالْمِيْثَاقِ مِنْهُمْ ان میں حبیب انصاری اور ابن دینہ اور ایک اور شخص تھے۔ جب انہوں نے ان کو قابو کر لیا، انہوں نے اپنی حُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ وَابْنُ دَئِنَةَ وَرَجُلٌ کمانوں کے چلے کھولے اور ان کی مشکیں کسیں۔ تیسرا آخَرُ فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ أَطْلَقُوا شخص کہنے لگا یہ پہلا دعا ہے۔ بخدا میں تمہارے ساتھ أَوْ تَارَ قِسِيِّهِمْ فَأَوْ تَقُوْهُمْ فَقَالَ الرَّجُلُ نہیں جاؤں گا۔ میرے لئے ان لوگوں میں راحت بخش الثَّالِثُ هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ وَاللهِ لَا نمونہ ہے جو شہید ہوئے ۔ انہوں نے اس کو کھینچا اور أَصْحَبُكُمْ إِنَّ لِي فِي هَؤُلَاءِ لَأُسْوَةً کش مکش کی کہ وہ کسی طرح ان کے ساتھ جائیں مگر وہ يُرِيدُ الْقَتْلَى فَجَرَّرُوْهُ وَعَالَجُوْهُ عَلَى نہ مانے۔ آخر انہوں نے ان کو مار ڈالا اور حبیب اور ابن دھنہ کو پکڑ کر لے گئے اور جا کر مکہ میں ان کو بیچ دیا۔ أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَأَبَى فَقَتَلُوْهُ فَانْطَلَقُوْا یہ جنگ بدر کے بعد کا واقعہ ہے اور خبیب کو بنو حارث بِخُبَيْبِ وَابْنِ دَيْنَةَ حَتَّى بَاعُوْهُمَا بَن عامر بن نوفل بن عبد مناف نے خرید لیا اور خبیب ہی بِمَكَّةَ بَعْدَ وَقِيْعَةِ بَدْرٍ فَابْتَاعَ خُبَيْبًا تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو بدر کے دن قتل کیا تھا۔ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلِ حبیب ان کے پاس قید رہے ۔ (ابن شہاب کہتے تھے کہ ) ابْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ عبد الله بن عیاض نے مجھے بتایا کہ حارث کی بیٹی نے ان الْحَارِثُ بْنَ عَامِرٍ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَبِثَ سے ذکر کیا کہ جب انہوں نے اتفاق کر لیا ( کہ انہیں مار ڈالیں) تو خبیب نے اس سے استرا مانگا کہ اسے استعمال حُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ أَنَّ بِنْتَ الْحَارِثِ کریں۔ چنانچہ اس نے انہیں استرا دے دیا۔ اس وقت میری بے خبری کی حالت میں میرا ایک بچہ خبیب کے پاس أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمْ حِيْنَ اجْتَمَعُوا اسْتَعَارَ آیا اور انہوں نے اس کو لے لیا۔ اس نے کہا: میں نے مِنْهَا مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا فَأَعَارَتْهُ حبیب کو دیکھا کہ وہ اسے اپنی ران پر بٹھائے ہوئے ہیں فَأَخَذَ ابْنَا لِي وَأَنَا غَافِلَةٌ حَتَّى أَتَاهُ اور استرا اُن کے ہاتھ میں ہے۔ میں یہ دیکھ کر اتنا گھبرائی