صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 390
صحيح البخاری جلده ۳۹۰ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيْدِ بْنِ نے کہا: عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ حَلِيْفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ مجھے بتایا اور وہ بنوزہرہ کے حلیف اور حضرت ابو ہریرہ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ کے ساتھیوں میں سے تھے کہ حضرت ابو ہر پر ورضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمیوں کا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ ایک دستہ حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا اور عاصم رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن ثابت انصاری کو جو عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا عاصم عَشَرَةَ رَهْطٍ سَرِيَّةٌ عَيْنًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ تھے اس کا امیر مقرر فرمایا۔یہ لوگ چلے گئے۔جب ہداۃ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ جَدَّ مقام پر پہنچے جو عسفان اور مکہ کے درمیان ہے تو ان کے بن عُمَرَ بْن الْخَطَّابِ متعلق کسی نے بنو لحیان کو خبر کر دی جو ہذیل قبیلے کا ایک فَانْطَلَقُوْا حَتَّى إِذَا كَانُوْا بِالْهَدَأَةِ حصہ ہے۔یہ خبر سن کر بنو لحیان کے تقریباً دو سو آدمی جو وَهُوَ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوْا لِحَيِّ سب کے سب تیرانداز تھے نکل کھڑے ہوئے۔وہ ان مِنْ هُدَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لَحْيَانَ کے قدموں کے نشانوں پر ان کے پیچھے گئے۔یہاں تک کہ انہوں نے ان کی وہ جگہ پالی۔جہاں انہوں نے فَتَفَرُوْا لَهُمْ قَرِيبًا مِّنْ مِائَتَيْ رَجُلٍ کھجوریں کھائی تھیں جو مدینہ سے بطور زاد کے لی تھیں۔كُلُّهُمْ رَامِ فَاقْتَضُوْا آثَارَهُمْ حَتَّى وہ گٹھلیوں کو دیکھ کر ) بولے یہ یثرب کی کھجوریں ہیں۔وَجَدُوْا مَأْكَلَهُمْ تَمْرًا تَزَوَّدُوْهُ مِنَ وہ قدموں کے نشان پر ان کے پیچھے گئے۔جب عاصم الْمَدِينَةِ فَقَالُوْا هَذَا تَمْرُ يَثْرِبَ اور ان کے ساتھیوں نے ان کو آتے دیکھا تو انہوں نے فَاقْتَصُّوْا آثَارَهُمْ فَلَمَّا رَآهُمْ عَاصِمٌ ایک ٹیلہ پر پناہ لی۔ان لوگوں نے ان کو گھیر لیا اور ان وَأَصْحَابُهُ لَجَنُوْا إِلَى فَدْفَدٍ وَأَحَاطَ سے کہنے لگے: نیچے اتر آؤ اور تم اپنے آپ کو ہمارے سپرد کر دو اور ہماری طرف سے) تمہارے لئے یہ بِهِمُ الْقَوْمُ فَقَالُوْا لَهُمْ انْزَلُوا عہد و پیمان ہے کہ ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں وَأَعْطُونَا بِأَيْدِيكُمْ وَلَكُمُ الْعَهْدُ کے عاصم بن ثابت جو اس دستہ کے امیر تھے بولے: گے۔وَالْمِيْثَاقُ وَلَا نَقْتُلُ مِنْكُمْ أَحَدًا فَقَالَ میرا اپنے آپ کو سپرد کرنا، بخدا! میں تو آج کا فرکی امان عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ أَمِيرُ السَّرِيَّةِ أَمَّا أَنَا پر ٹیلے سے نہیں اتروں گا۔اے اللہ اپنے نبی کو ہمارے