صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 21 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 21

صحيح البخاری جلده - ۲۱ ۵۳ - کتاب الصلح الرَّجُلِ فَاعْرِضَا عَلَيْهِ وَقُوْلَا لَهُ وَاطْلُبَا اس کے سامنے صلح پیش کرو اور اس سے گفتگو کرو اور إِلَيْهِ فَأَتَيَاهُ فَدَخَلَا عَلَيْهِ فَتَكَلَّمَا وَقَالَا اس سے منواؤ۔چنانچہ وہ دونوں ان کے پاس آئے اور گفتگو کی اور ان سے بات کی اور صلح کا مطالبہ کیا۔لَهُ وَطَلَبَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُمَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِي إِنَّا بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَصَبْنَا مِنْ هَذَا الْمَالِ وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَدْ عَاثَتْ حضرت حسن بن علی نے ان سے کہا: ہم عبد المطلب کے بیٹے ہیں۔ہمیں مال تو مل چکا ہے اور اصل بات یہ ہے که یه امت اپنی خونریزیوں میں حد سے گزر گئی ہے۔في دِمَائِهَا قَالَا فَإِنَّهُ يَعْرِضُ انہوں نے کہا: وہ آپ کے سامنے یہ یہ شرطیں پیش عَلَيْكَ كَذَا وَكَذَا وَيَطْلُبُ إِلَيْكَ کرتے ہیں اور آپ سے صلح چاہتے ہیں اور یہ مطالبہ وَيَسْأَلُكَ قَالَ فَمَنْ لِي بِهَذَا قَالَا کرتے ہیں۔(حضرت حسنؓ نے) کہا: ان باتوں کا کون نَحْنُ لَكَ بِهِ فَمَا سَأَلَهُمَا شَيْئًا إِلَّا قَالَا ذمہ دار ہوگا؟ اُن دونوں نے کہا: ہم آپ کے لئے نَحْنُ لَكَ بِهِ فَصَالَحَهُ فَقَالَ الْحَسَنُ اِس کے ذمہ دار ہیں۔جس بات کا بھی حضرت حسنؓ ان وَلَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ رَأَيْتُ دونوں سے مطالبہ کرتے وہ یہی کہتے کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔آخر انہوں نے معاویہ سے صلح کر لی۔رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حسن (بصری) کہتے تھے: میں نے حضرت ابوبکرہ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيَّ إِلَى سے نا۔وہ کہتے تھے۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جَنْبِهِ وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً کو منبر پر دیکھا اور حضرت حسن بن علی آپ کے پہلو وَعَلَيْهِ أُخْرَى وَيَقُوْلُ إِنَّ ابْنِي هَذَا میں تھے۔آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ کبھی اُن کی طرف اور فرماتے : میرا یہ بیٹا سردار ہے فِئَتَيْنِ عَظِيْمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۔قَالَ اور اُمید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ابو عبد اللہ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ (امام بخاری) کہتے ہیں علی بن عبد اللہ (مدینی) نے إِنَّمَا ثَبَتَ لَنَا سَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ مجھے کہا کہ حضرت ابوبکرۃ سے حسن (بصری) کا سننا أَبِي بَكْرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ۔اطرافه ٣٦٢٩، ٣٦٤٦، ٧١٠٩۔صرف اس حدیث سے ثابت ہوا ہے۔