صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 389
صحيح البخاری جلده ۳۸۹ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير جسے انہیں منظور کرنا پڑا۔ کیونکہ ثالثی فیصلہ کی تعمیل لازمی ہے۔ سورہ بقرہ کی آیات (۸۵ تا ۱۲۴) میں بطور انذار پیشگوئی معاہدہ موالات میں شریک ہونے والوں کو قبل از وقت آگاہ کر دیا گیا تھا کہ میثاق توڑنے کا انجام برا ہوگا۔ نہ فدیہ قبول کیا جائے گا نہ سفارش ۔ مشیت الہی یہی تھی کہ ایسا ہو۔ حَكَمْتَ بِحُكْمِ الْمَلِک کے الفاظ سے یہ مراد ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود فیصلہ فرماتے تو آپ شان نبوت کے لحاظ سے فرماتے جو نرم ہوتا۔ لیکن حضرت سعد بن معاذ نے تو رات کے احکام کو مد نظر رکھتے ہوئے شاہانہ عدل کے مطابق فیصلہ صادر کیا۔ بَاب ١٦٩ : قَتْلُ الْأَسِيْرِ وَقَتْلُ الصَّبْرِ قیدی کا قتل کرنا اور کسی کو کھڑا کر کے ) باندھ کر قتل کرنا ٣٠٤٤ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۳۰۴۴: اسماعیل ( بن ابی اولیں ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ کیا ۔ انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حضرت انس بن رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جس سال مکہ فتح ہوا دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ میں داخل ہوئے اور فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ آپ کے سر پر خود تھا۔ جب آپ نے اسے اُتارا تو ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ابن اخطل کعبہ کے پردوں فَقَالَ اقْتُلُوْهُ۔ اطرافه: ١٨٤٦، ٤٢٨٦، ٥٨٠٨۔ سے لڑکا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔ باب ۱۷۰ هَلْ يَسْتَأْسِرُ الرَّجُلُ وَمَنْ لَّمْ يَسْتَأْسِرْ وَمَنْ رَّكَعَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ کیا کوئی شخص جو اپنے تئیں قید کر وائے اور جو اپنے آپ کو قید نہ کرائے اور جس نے قتل کئے جانے کے وقت دور کعتیں پڑھیں ٣٠٤٥ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۳۰۴۵: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ انہوں