صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 387 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 387

صحيح البخاری جلده ۳۸۷ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بَاب ١٦٧ : مَنْ قَالَ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ فُلَانٍ جو شخص ( وار کرتے وقت یوں ) کہے: یہ لو میں فلاں کا بیٹا ہوں وَقَالَ سَلَمَةُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ اور حضرت سلمہ نے کہا: یہ لو میں اکوع کا بیٹا ہوں۔ ٣٠٤٢ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ ۳۰۴۲: عبید اللہ بن موسیٰ ) نے ہم سے بیان کیا۔ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلَ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابو اسحق سے رَجُلٌ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک شخص نے حضرت أَبَا عُمَارَةَ أَوَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کہنے لگا: ابوعمارہ! کیا تم الْبَرَاءُ وَأَنَا أَسْمَعُ أَمَّا رَسُولُ اللهِ نے حنین کے دن میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیری تھی ؟ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُوَلِّ يَوْمَئِذٍ حضرت براٹو نے جواب دیا اور میں سن رہا تھا: مگر كَانَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذًا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن پیٹھ نہیں بِعِنَانِ بَغْلَتِهِ فَلَمَّا غَشِيَهُ الْمُشْرِكُوْنَ پھیری تھی۔ ابو سفیان بن حارث آپ کی مچھر کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ جب مشرک آپ پر اُمڈ آئے تو نَزَلَ فَجَعَلَ يَقُوْلُ : آپ اتر پڑے۔ فرمانے لگے: أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں میں موعود نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں قَالَ فَمَا رُلِيَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ أَشَدُّ حضرت براء کہتے تھے: اس دن آپ سے بڑھ کر بہادر مِنْهُ۔ لوگوں میں سے اور کوئی نہیں دیکھا گیا۔ اطرافه: ٢٨٦٤، ٢٨٧٤، ٢٩٣۰، 43١٥، 4316، 4317۔ تشريح : مَنْ قَالَ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ فُلَانٍ : اس باب سے یہ بتانا مقصود ہے کہ گو فخر کرنا نا پسندیدہ موضوع ہے مگر بعض مواقع پر یہ جان مواقع پر یہ جائز بلکہ ضروری ہو جاتا ہے۔ روایت نمبر ۳۰۴۲ کے لئے دیکھئے کتاب المغازی، باب ۵۵: قول الله تعالى ويوم حنين اذ أعجبتكم كثرتكم