صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 386 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 386

صحيح البخاری جلد۵ MAY ۵۶ - كتاب الجهاد والسير انْدَفَعْتُ حَتَّى أَلْقَاهُمْ وَقَدْ جتنے لوگ تھے سبھی کو سنائی دیا۔پھر میں سرپٹ دوڑا۔أَخَذُوْهَا فَجَعَلْتُ أَرْمِيْهِمْ وَأَقُولُ أَنَا یہاں تک کہ ان سے جاملا اور انہوں نے اونٹوں کو پکڑا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَعْ ہوا تھا۔میں ان پر تیر پھینکنے لگا اور یہ کہتا جاتا تھا۔میں فَاسْتَنْقَذْتُهَا مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يُشْرَبُوْا اکوع کا بیٹا ہوں اور آج وہ دن ہے کہ جب کمینے فَأَقْبَلْتُ بِهَا أَسُوْقُهَا } فَلَقِيَنِي لوگوں کی ہلاکت ہوگی۔آخر میں نے ان اونٹنیوں کو { النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا ان لوگوں سے چھڑالیا۔پیشتر اس کے کہ وہ پانی پیتے۔رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ الْقَوْمَ عِطَاشْ وَإِنِّي پھر میں انہیں ہانک کر واپس لے آیا۔نبی صلی اللہ { ہم أَعْجَلْتُهُمْ أَنْ يَشْرَبُوْا سِقْيَهُمْ فَابْعَثْ علیہ وسلم مجھ سے ملے۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ یا فِي إِثْرِهِمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْأَكْوَع لوگ پیاسے تھے اور پانی پینے سے پہلے ہی میں نے مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ إِنَّ الْقَوْمَ يُقْرَوْنَ ان کو جالیا۔آپ ان کے پیچھے فوج بھیجیں۔آپ نے فرمایا: اکوع کے بیٹے ! تم غالب آگئے ہو درگزر فِي قَوْمِهِمْ۔طرفه: ٤١٩٤۔کرو۔ان لوگوں کی قوم مہمان نواز ہی رہی ہے۔تشریح : إِذَا فَزِعُوا بِاللَّيْلِ۔۔۔فَتَلَقَّاهُمُ النَّبِيُّ لا لا۔إِذَا فَرْعُوا بِاللَّيْلِ۔۔۔۔فَتَلَقَّاهُمُ النَّبِيُّ الله عَلَى فَرَس : باب ۱۲۵ سے ۱۹۸ تک منصب امامت سے متعلق واجبات وفرائض و اختیارات کا مجمل علم حاصل ہوتا ہے۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بوقت خطرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا فرض سمجھا کہ خود صورت حال کا جائز لیں اور تحقیق فرمائیں۔روایت نمبر ۳۰۴۱ کا تعلق غزوہ ذی قرد سے ہے جو آھ میں قبائل غطفان و فزارہ سے ہوا۔تفصیل کے لئے دیکھئے كتاب المغازی باب ۳۸: غزوة ذی قرد۔اس باب سے یہ دکھانا مقصود ہے کہ افراد کا بھی فرض ہے کہ خطرہ کے موقع پر جرات سے کام لیں۔جیسے حضرت سلمہ بن اکوف نے لیا۔يَا صَبَاحَاه عربوں میں اس کلمہ سے خطرے کا اعلان کیا جاتا تھا اور مدد کے لئے بلایا جاتا تھا۔لفظ الوضع جمع ہے رَضِيع کی۔الْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَعِ کا مطلب یہ ہے کہ آج کا دن کمینے اور لکیم لوگوں کی ہلاکت کا دن ہے۔مَلَكْتَ فَأَسْجِحُ یعنی اے ابن اکوع تو غالب ہو چکا ہے اس لئے نرمی کر۔یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء ۶ حاشیہ صفحہ ۱۹۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔