صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 385
صحيح البخارى جلده ۳۸۵ ۵۶- كتاب الجهاد والسير صَوْتًا قَالَ فَتَلَقَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى الله ایک رات مدینہ والے یکا یک گھبرا گئے۔انہوں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ کوئی آواز سنی تھی۔کہتے تھے: وہ باہر گئے تو نبی عُرْيِ وَهُوَ مُتَقَلَّدٌ سَيْفَهُ فَقَالَ لَمْ صلى الله علیہ وسلم ان کو سامنے سے آتے ہوئے ملے۔اعُوْا لَمْ تُرَاعُوْا ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ آپ حضرت ابوطلحہ کے گھوڑے کی نگی پیٹھ پر سوار تھے اور تلوار لٹکائی ہوئی تھی۔آپ نے فرمایا: ڈرو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدْتُهُ بَحْرًا نہیں۔ڈرو نہیں۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے يَعْنِي الْفَرَسَ۔فرمایا: میں نے اس گھوڑے کو دریا پایا ہے۔اطرافه: ٢٦٢٧، ٢٨٢٠، ٢٨٥٧ ، ٢٨٦٢، ٢٨٦٦، ٢٨٦٧، ٢٩٠٨، ٢٩٦٨، ٢٩٦٩، ،٠٦٠٣٣ ٦٢١٢ باب ١٦٦ مَنْ رَّأَى الْعَدُوَّ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا صَبَاحَاهُ حَتَّى يُسْمِعَ النَّاسَ جو شخص دشمن کو دیکھے اور اتنی بلند آواز سے یا صباحاہ پکارے کہ لوگوں کو سنائی دے ٣٠٤١ : حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ ۳۰۴۱ مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ یزید إِبْرَاهِيْمَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ بن ابی عبید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حضرت سلمہ عَنْ سَلَمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ خَرَجْتُ ( بن اکوع) سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو مِنَ الْمَدِينَةِ ذَاهِبًا نَحْوَ الْغَابَةِ حَتَّى خبر دی۔وہ کہتے تھے کہ میں مدینہ سے نکل کر غابہ کی إِذَا كُنْتُ بِشَيَّةِ الْغَابَةِ لَقِيَنِي غُلَامٌ طرف جارہا تھا۔جب میں غابہ کی پہاڑی کے موڑ پر لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ عَوْفٍ قُلْتُ پہنچا تو عبد الرحمن بن عوف کا ایک غلام مجھ سے ملا۔وَيْحَكَ مَا بِكَ قَالَ أُخِذَتْ لِقَاحُ میں نے کہا: ارے تم یہاں کیسے، اس نے کہا: نبی صلی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ اللہ علیہ وسلم کی دودھیل اونٹنیاں پکڑ کر لے گئے ہیں۔مَنْ أَخَذَهَا قَالَ غَطَفَانُ وَفَزَارَةُ میں نے کہا: کون لے گئے ہیں؟ کہنے لگا: غطفان اور فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَحَاتٍ أَسْمَعْتُ فزارہ کے لوگ۔میں نے تین دفعہ یا صباحاہ، یا صباحاہ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يَا صَبَاحَاهُ يَا صَبَاحَاة للکارا۔مدینہ کے دونوں پتھر ہیلے کناروں کے درمیان