صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 383 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 383

صحيح البخاری جلده ٣٨٣ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ سے ستر آدمی شہید کئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ أَصَابَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ يَوْمَ بَدْرٍ کے صحابہ نے جنگ بدر میں مشرکوں کے ایک سو چالیس أَرْبَعِيْنَ وَمِائَةً سَبْعِيْنَ أَسِيْرًا وَسَبْعِيْنَ آدمیوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ستر قیدی اور ستر مقتول۔قَتِيْلًا فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ أَفِي الْقَوْم ابوسفیان نے تین بار پکار کر کہا: کیا ان لوگوں میں محمد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اسے جواب دینے مُحَمَّدٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ سے روک دیا۔پھر اس نے تین بار پکار کر پوچھا: کیا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِيبُوهُ ثُمَّ لوگوں میں ابوقحافہ کا بیٹا ہے؟ پھر تین بار پوچھا: کیا ان قَالَ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ثَلَاثَ لوگوں میں ابن خطاب ہے؟ پھر وہ اپنے ساتھیوں کی مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ طرف لوٹ گیا اور کہنے لگا: یہ جو تھے وہ تو مارے گئے۔ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ یہ سن کر حضرت عمر اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے فَقَالَ أَمَّا هَؤُلَاءِ فَقَدْ قُتِلُوْا فَمَا مَلَكَ اور بولے: اے اللہ کے دشمن! بخدا تم نے جھوٹ کہا ہے۔جن کا تو نے نام لیا ہے وہ سب زندہ ہیں۔جو عُمَرُ نَفْسَهُ فَقَالَ كَذَبْتَ وَاللَّهِ يَا عَدُوَّ بات ناگوار ہے اس میں سے ابھی تیرے لئے بہت اللَّهِ إِنَّ الَّذِيْنَ عَدَدْتَ لَأَحْيَاءٌ كُلُّهُمْ کچھ باقی ہے۔ابوسفیان بولا: یہ معرکہ بدر کے معر کے وَقَدْ بَقِيَ لَكَ مَا يَسُوءُكَ قَالَ يَوْمٌ کا بدلہ ہے اور لڑائی تو ڈول کی طرح ہے۔( کبھی اس بِيَوْمِ بَدْرٍ وَالْحَرْبُ سِجَالَ إِنَّكُمْ کی فتح اور کبھی اس کی۔) تم ان لوگوں میں کچھ ایسے سَتَجِدُونَ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةَ لَمْ آمُرْ بِهَا مردے پاؤ گے جن کے ناک کان کٹے ہوئے ہیں۔وَلَمْ تَسُؤْنِي ثُمَّ أَخَذَ يَرْتَجِزُ أَعْلُ هُبَل میں نے اس کا حکم نہیں دیا اور میں نے اسے برا بھی أَعْلُ هُبَلْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نہیں سمجھا۔پھر اس کے بعد وہ یہ رجزیہ فقرہ پڑھنے لگا: ہبل کی ہے۔ہیل کی ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا: کیا وَسَلَّمَ أَلَا تُجِيْبُوْنَهُ قَالُوْا يَا رَسُولَ اللَّهِ اسے جواب نہیں دو گے؟ صحابہ نے کہا: یارسول اللہ ! مَا نَقُوْلُ قَالَ قُوْلُوْا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ ہم کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا: تم کہو۔اللہ ہی سب قَالَ إِنَّ لَنَا الْعُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ سے بلند اور بڑی شان والا ہے۔پھر ابوسفیان نے کہا: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا عَی نامی بت ہمارا ہے اور تمہارا کوئی غڑی نہیں۔