صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 382
صحيح البخاری جلده ۳۸۲ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير يُحَدِّثُ قَالَ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے دن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجَالَةِ يَوْمَ أُحُدٍ پیاده فوج پر حضرت عبداللہ بن جبیر کو مقرر فرمایا اور یہ وَكَانُوا خَمْسِيْنَ رَجُلًا عَبْدَ اللهِ بْنَ پچاس آدمی تھے اور ان سے فرمایا: اپنی اس جگہ سے نہ جُبَيْرٍ فَقَالَ إِنْ رَأَيْتُمُوْنَا تَخْطَفنا بنا خواہ دیکھو کہ پرندے ہم پر جھپٹ رہے ہیں۔ اپنی جگہ پر رہنا، تا وقتیکہ میں تمہیں نہ بلا بھیجوں اور اگر تم ہمیں الطَّيْرُ فَلَا تَبْرَحُوْا مَكَانَكُمْ هَذَا حَتَّى اس حالت میں بھی دیکھو کہ لوگوں کو ہم نے شکست أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ وَإِنْ رَأَيْتُمُوْنَا هَزَمْنَا دے دی ہے اور انہیں ہم نے روند ڈالا ہے۔ تب بھی الْقَوْمَ وَأَوْطَأْنَاهُمْ فَلَا تَبْرَحُوْا حَتَّى یہاں سے نہ سرکنا ، جب تک کہ میں تمہیں نہ کہلا أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ فَهَزَمُوْهُمْ قَالَ فَأَنَا وَاللهِ بھیجوں ۔ چنانچہ مسلمانوں نے ان کو شکست دے کر رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْدُدْنَ قَدْ بَدَتْ بھگا دیا۔ حضرت براء کہتے تھے۔ بخدا میں نے (مشرک) خَلَا خِلُهُنَّ وَأَسْوُقُهُنَّ رَافِعَاتٍ ثِيَابَهُنَّ عورتوں کو دیکھا کہ وہ بھاگ رہی تھیں اور وہ اپنے کپڑے اُٹھائے ہوئے تھیں۔ ان کی پازیبیں اور پنڈلیاں سنگی فَقَالَ أَصْحَابُ ابْنِ جُبَيْرِ الْغَنِيمَةَ أَيْ ہو رہی تھیں۔ (حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھیوں قَوْمِ الْغَنِيمَةَ ظَهَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا نے یہ دیکھ کر کہا: لوگو! چلو، غنیمت حاصل کریں۔ تمہارے تَنْتَظِرُوْنَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ ساتھی غالب ہو گئے تم کیا انتظار کر رہے ہو؟ حضرت أَنَسِيْتُمْ مَا قَالَ لَكُمْ رَسُولُ اللهِ عبد اللہ بن بن جبیر جبیر نے نے کہا: کہا : کیا تم وہ بات بھول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوْا وَاللهِ لَتَأْتِيَنَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمائی تھی ؟ انہوں النَّاسَ فَلَنُصِيبَنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ فَلَمَّا نے کہا: بخدا ضرور ہم بھی لوگوں کے پاس پہنچیں گے بھول گئے ہو جو أَتَوْهُمْ صُرِفَتْ وُجُوهُهُمْ فَأَقْبَلُوا اور غنیمت کا مال لیں گے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو ان مُنْهَزِمِيْنَ فَذَاكَ إِذْ يَدْعُوهُمُ الرَّسُولُ کے منہ پھیر دیئے گئے اور شکست کھا کر بھا گئے ہوئے فِي أُخْرَاهُمْ فَلَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ ہے جبکہ لوٹے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جبکہ رسول تمہاری سب سے پچھلی جماعت میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ اثْنَيْ عَشَرَ (کھڑا) تمہیں بلا رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رَجُلًا فَأَصَابُوْا مِنَّا سَبْعِيْنَ وَكَانَ بارہ آدمیوں کے سوا اور کوئی نہ رہا اور کافروں نے ہم میں