صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 20
صحيح البخاری جلده ۵۳ - کتاب الصلح بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنتَظِرُ (الأحزاب:۲۴) اسی روح فدائیت ہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر انہیں ناز تھا۔بَاب ۹ : قَوْلُ النَّبِيِّ ﷺ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِي ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِتَتَيْنِ عَظِيْمَتَيْنِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہنا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اُمید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے سے دو بڑی جماعتوں میں صلح کرائے گا وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا الله جل ذکره کا یہ فرمانا: ان دونوں کے درمیان صلح (الحجرات: ۱۰) کراؤ۔٢٧٠٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۷۰۴: ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، ( کہا : ) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ سفيان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ ابوموسیٰ سے سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُوْلُ اسْتَقْبَلَ وَاللهِ روایت ہے۔انہوں نے کہا: میں نے حسن (بصری) الْحَسَنُ بْنُ عَلِي مُعَاوِيَةَ بِكَتَائِبَ سے سنا۔کہتے تھے۔حضرت حسن بن علی بخدا پہاڑوں أَمْثَالِ الْجِبَالِ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ کی طرح فوجیں لے کر معاویہ کا مقابلہ کرنے کے إِنِّي لَأَرَى كَتَائِبَ لَا تُوَلّي حَتَّى تَقْتُلَ لئے آئے تھے۔عمرو بن عاص نے کہا: میں تو ایسی أَقْرَانَهَا فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ وَكَانَ وَاللهِ فوجیں دیکھ رہا ہوں جو تا وقتیکہ اپنے ہمسروں کو مارنہ خَيْرَ الرَّجُلَيْنِ أَيْ عَمْرُو إِنْ قَتَلَ لیں پیٹھ نہ پھیریں گی۔حضرت معاویہؓ نے جو بخدا هَؤُلَاءِ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ هَؤُلَاءِ مَنْ لي عمرو بن عاص سے بہتر تھے، کہا: عمرو! اگر انہوں نے ان کو مارڈالا اور انہوں نے ان کو تو لوگوں کی حکومت کون سنبھالے گا۔ان کی عورتوں کا اور ان کی بِأُمُورِ النَّاسِ مَنْ نِّي بِنِسَائِهِمْ مَنْ لِي بِضَيْعَتِهِمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَجُلَيْنِ جائیدادوں کا نگران کون ہوگا؟ پھر معاویہ نے قریش مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ کے دو شخصوں کو جو کہ عبد الشمس کی اولاد میں سے تھے۔عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ یعنی عبد الرحمن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر بن کریز کو عَامِرِ بْنِ جُرَيْزٍ فَقَالَ اذْهَبَا إِلَى هَذَا اُن کے پاس بھیجا اور کہا: تم اس شخص کے پاس جاؤ اور