صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 379
صحيح البخاری جلده ٣٩ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير إِنَّ الْأَعْدَاءَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ان دشمنوں نے ہی ہم پر ظلم کئے ہیں جب بھی انہوں إِذَا أَرَادُوْا فِتْنَةٌ أَبَيْنَا نے کوئی فتنہ اُٹھانا چاہا ہم انکار کرتے رہے۔يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ۔آپ ان شعروں کو پڑھتے وقت اپنی آواز بلند فرماتے۔اطرافه ۲٨٣٦، ۲۸۳۷، ٤١٠٤، ٤١٠٦، ٦٦٢٠، ٧٢٣٦، شریح: الرَّجَزُ فِي الْحَرْبِ : عنوانِ باب میں حضرت سہل بن سعد، حضرت انس اور یزید کی روایتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان کے لئے دیکھئے کتاب الجہاد باب ۳۴، کتاب المغازی باب ۳۰ روایت نمبر ۴۰۹۸ نیز باب ۳۹۔مشار الیہ جنگوں کی تحریک میں ان یہودیوں کا ہاتھ تھا جن کے سرغنے ابورافع اور کعب بن اشرف تھے۔مذکورہ رزمیہ اشعار میں صراحت ہے کہ ہم نے ہر چند کوشش کی کہ ان کے فتنوں سے دور رہیں مگر انہوں نے نہیں مانا اور مجبور کر دیا کہ ہم بھی دشمن کے حملوں کا دفاع کرنے کے لئے جنگ میں داخل ہوں۔حضرت سلمہ بن اکوع کے رجزیہ نعرے کے لئے دیکھئے باب ۱۶۶، روایت نمبر ۴۱ ۳۰۔امام بخاری کو یہ باب اس غرض سے بھی قائم کرنا پڑا ہے کہ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ لڑائی کے وقت آواز بلند کرنا مکروہ ہے اور صحابہ کرام اسے برا سمجھتے تھے جیسا کہ ابوداؤد نے اس بارہ میں ایک روایت بسند قیس بن عباد نقل کی ہے (فتح الباری جز ء۶ صفہ ۱۹۴) یہ روایت غیر طبعی ہے۔جوش کی حالت میں آواز بلند ہو ناطبعی امر ہے۔حضرت سلمہ بن اکوع تیر برساتے اور کہتے جاتے تھے : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكُوع (دیکھئے باب ۱۶۶، ۱۶۷) یہ لو میں اکوع کا بیٹا ہوں اور خندق کی کھدائی اور غزوہ حنین میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلندر جز خوانی کی۔باب ١٦٢ : مَنْ لَّا يَثْبُتُ عَلَى الْخَيْل جو گھوڑے پر جم کر نہ بیٹھے (اس کے لئے دعا کرنا ) ٣٠٣٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۳۰۳۵ محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہم سے بیان کیا کہ ابْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ (عبدالله) بن ادریس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرٍ ( بن الى خالد ) سے، اسماعیل نے قیس بن ابی حازم) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ سے قیس نے حضرت جریر ( بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب سے میں مسلمان ہوا ہوں نبی ﷺ نے مجھ سے (گھر میں ) پردہ نہیں کرایا وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِهِ۔اور جب کبھی آپ نے مجھے دیکھا تو ضرور مسکرائے۔اطرافه: ۳۸۲۲، ٦٠٩۰ حيح سنن أبى داود، كتاب الجهاد، باب فيما يؤمر به من الصمت عند اللقاء)