صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 380 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 380

صحيح البخارى جلده MA+ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ٣٠٣٦ : وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ إِنِّي :۳۰۳۶ اور میں نے آپ سے شکایت کی کہ میں لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا۔آپ نے میرے سینے صَدْرِي وَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے اللہ ! اسے گھوڑے پر جم کر بیٹھنے کی توفیق دے اور اس کو راہِ راست کا رہبر بنا اور هَادِيًا مَّهْدِيًّا۔راہ راست دیکھا۔اطرافه: ٣٠٢٠، ۳٠٧٦، ۳۸۲۳، ٤۳۵۵ ٤٣٥٦، ٦٠٨٩، ٦٣٣٣- یہ باب بطور فصل ہے۔واقعہ مذکورہ مفصل دیکھئے زیر باب ۱۵۴۔نیز دیکھئے کتاب المغازی باب غزوة تشریح ذي الخلصة۔بَاب ١٦٣ : دَوَاءُ الْجُرْحِ بِإِحْرَاقِ الْحَصِيْرِ بور یا جلا کر زخم کا علاج کرنا وَغَسْلُ الْمَرْأَةِ عَنْ أَبِيْهَا الدَّمَ عَنْ اور عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا اور وَجْهِهِ وَحَمْلُ الْمَاءِ فِي التَّرْسِ۔ڈھال میں پانی بھر کر لانا۔:۳۰۳۷: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۳۰۳۷ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ قَالَ کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ابو حازم نے سَأَلُوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: لوگوں نے حضرت رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَيِّ شَيْءٍ دُوْوِيَ جُرْحُ سهل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا علاج کس چیز سے کیا گیا تھا؟ مَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي حضرت سہل نے کہا: لوگوں میں سے اب کوئی باقی نہیں كَانَ عَلِيٌّ يَجِيءُ بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ رہا جو اس بارہ میں مجھ سے بڑھ کر جانتا ہو۔حضرت وَكَانَتْ يَعْنِي فَاطِمَةَ تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ عَلی اپنی ڈھال میں پانی لاتے تھے اور وہ یعنی حضرت فاطمیہ آپ کے چہرے سے خون دھوتی تھیں اور ایک وَجْهِهِ وَأُخِذَ حَصِيْرٌ فَأُخْرِقَ ثُمَّ حُشِيَ چٹائی لی گئی اور اس کو جلایا گیا۔پھر اس سے رسول اللہ بِهِ جُرْحُ رَسُوْلِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم کا زخم بھر دیا گیا۔اطرافه ٢٤٣ ، ۲۹۰۳، ۲۹۱۱، ٤٠۷۵ ٥٢٤٨ ٥٧٢٢۔