صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 378
صحيح البخاری جلده ۳۷۸ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير لفظ كذب یہاں اسی مفہوم میں وارد ہوا ہے۔میدان قتال میں دشمن کو مغلوب کرنے کے لئے جو چاہیں چلی جاتی ہیں وہ انہی معنوں میں خَدَعَةٌ اور کذب کہلاتی ہیں۔غزوہ احد اور بدر میں اسی قسم کی تدبیر اختیار کی گئی تھی جس سے دشمن خلاف توقع صورت حال دیکھ کر بوکھلا گیا۔اس کی مزید تفصیل کتاب المغازی میں آئے گی۔روایت نمبر ۲۹۴۱ ہمارے بیان کی تصدیق کرتی ہے، جہاں ابوسفیان کی شہادت کا ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی دھوکہ فریب سے کام نہیں لیا اور اخلاق محمودہ سے متصف رہے۔بَابِ ١٦١ : الرَّجَزُ فِي الْحَرْبِ لڑائی میں رجز یہ شعر پڑھنا وَرَفْعُ الصَّوْتِ فِي حَفْرِ الْخَنْدَقِ اور خندق کھودتے وقت آواز بلند کرنا۔اس کے متعلق فِيْهِ سَهْلٌ وَأَنَس عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله حضرت سہل اور حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔وَفِيْهِ يَزِيدُ عَنْ سَلَمَةَ۔سے روایت کی۔اور یزید بن ابی عبید ) نے بھی حضرت سلمہ بن اکوع ) سے روایت کی۔٣٠٣٤ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۳۰۳۴ مسدد نے ہمیں بتایا کہ ابوالاحوص نے ہم أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ سے بیان کیا کہ ابو اسحق نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ خندق میں دیکھا۔آپ مٹی ڈھو رہے تھے۔الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَنْقُلُ التُّرَابَ حَتَّى حالت یہ تھی کہ مٹی نے آپ کے سینے کے بالوں کو چھپا وَارَى التُّرَابُ شَعَرَ صَدْرِهِ وَكَانَ رکھا تھا اور آپ کے جسم پر بال بہت تھے اور آپ رَجُلًا كَثِيرَ الشَّعَرِ وَهُوَ يَرْتَجِزُ عبدالله بن رواحہؓ) کے یہ رجزیہ اشعار پڑھتے بِرَجَزِ عَبْدِ اللَّهِ : جاتے تھے: اللَّهُمَّ لَوْ لَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا اے اللہ ! اگر تو ہدایت نہ دیتا تو ہم کبھی ہدایت وَلَا تَصَدَّقْنَا وَ لَا صَلَّيْنَا نہ پاتے۔اور نہ ہم صدقہ دیتے اور نہ نماز فَأَنْزِلَنْ سَكِيْنَةً عَلَيْنَا پڑھتے۔سو ہم پر سکینت نازل فرما۔اور ہمارے وَثَيْتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَّا قَيْنَا قدموں کو مضبوط رکھ، اگر ہماری مٹھ بھیڑ ہو۔