صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 377 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 377

صحيح البخاری جلده ۵۶ - كتاب الجهاد والسير رَمْرَمَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ {ابْنِ} صَيَّادِ میں سے روں روں کی آواز آرہی تھی۔{ ابن ) صیاد رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور فَقَالَتْ يَا صَافِ هَذَا مُحَمَّدٌ فَوَثَبَ بولی: ارے صاف ! یہ محمد آ گئے ہیں۔یہ سن کر ابن صیاد ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله جلدی سے اُٹھ کھڑا ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ۔فرمایا: اگر وہ اسے رہنے دیتی تو اس کا حال کھل جاتا۔تشریح اطرافه ۱۳۵۵، ٢٦۳۸، ٣٠٥٦، ٦١٧٤۔الْحَرُبُ خَدَعَةٌ : حَدْعَةٌ کے معنی ہیں فریب ، داؤ پیچ۔اس سے یہ مراد ہے کہ جنگ میں ایسی تدبیر اختیار کرنا جس سے دشمن شش و پنج میں پڑ جائے اور اسے علم نہ ہو سکے کہ کدھر سے اس کا مقابلہ کیا جائے گا اور اس لا علمی میں وہ ایسے موقع پر لایا جائے جہاں سے اس پر کاری ضرب لگائی جائے۔غزوہ بدر اور اُحد میں یہی تدبیر اختیار کی گئی تھی جس سے دشمن خلاف توقع صورت حال دیکھ کر بوکھلا گیا۔خدعة کا مترادف لفظ آج کل کی انگریزی اصطلاح میں War Tactics ہے جس کے بغیر لڑائی جیتی نہیں جاسکتی۔لفظ خَدَع کے ہر اشتقاق میں اخفاء کا مفہوم پایا جاتا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں : خَدَعَ الطَّرِيقُ أَى لَمْ يُفْطَنُ لَهُ اقرب الموارد - خدع ) راستے کا پتہ نہیں چلا کہاں جاتا ہے۔یہ ابواب الْحَرْبُ خَدْعَةٌ کے تعلق ہی میں قائم کئے گئے ہیں۔روایت نمبر ۳۱ ۳۰ میں کعب بن اشرف سے محمد بن مسلمہ کی گفتگو کا ہر حصہ صداقت پر مبنی تھا۔زکوۃ وصدقات کا بار ہر غریب شخص کے لئے تکلیف دہ بار تھا۔جسے وہ بخوشی برداشت کرتا تھا۔لیکن اسے گفتگو میں مشغول رکھنا ان کی ایک تدبیر تھی جو حالات جنگ میں جائز تھی۔اسی لئے ان کی یہ تدبیر عنوانِ باب الْحَرْبُ خَدَعَةٌ کے تحت ایک جنگی تدبیر کی قسم قرار دی گئی ہے۔اسی طرف توجہ دلانے کی غرض سے باب ۱۵۹،۱۵۸ کے عناوین میں بھی لفظ الحرب بار بار نمایاں کیا گیا ہے۔کیونکہ کعب بن اشرف بھی ابو رافع کی طرح آتش جنگ بھڑکانے میں پیش پیش تھا۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مروانے کا منصوبہ اسی نے کیا تھا۔ابن صیاد جو یہودی النسل تھا اس کا حال معلوم کرنے کا تعلق بھی جنگی حالات سے تھا۔شر سے بچنے کے لئے ایسی انسدادی تدابیر حقیقی معنی میں کذب کی تعریف میں نہیں آتیں۔یہی وجہ ہے کہ عنوان باب الْكَذِبُ فِي الْحَرُبِ قائم کر کے مذکورہ بالا واقعات اس کذب سے جو خلاف واقعہ بات کا نام ہے جدا کر دیئے گئے ہیں۔اسلام میں دروغ گوئی کسی حالت میں بھی جائز نہیں۔لفظ گذب عربی زبان میں وسیع معانی رکھتا ہے۔جس کے ایک معنی تو ہم کے بھی ہیں۔کہتے ہیں : كَذَبَ الرَّأْيُ أَى تَوَهَّمَ الْأَمْرَ بِخِلَافِ مَاهُوَ بِهِ - خلاف واقعہ بات کا وہم کیا۔اسی طرح کہتے ہیں: كَذَبَتُكَ عَيْنُكَ أَى أَرَتْكَ مَا لَا حَقِيْقَةَ لَهُ۔آنکھ نے تمہیں خلاف واقعہ دکھایا۔(تاج العروس-كذب) لفظ ابن فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے (فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ۱۹۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔